تھر میں ہلاکتیں ذمے دار کون

پورا صحرائے تھر صومالیہ اور ایتھوپیا کی یاد دلانے لگا۔حکومت سندھ نے ایک بار پھر تھرپارکر کو آفت زدہ قرار دیدیا


Editorial March 07, 2014
26 اگست2012 ء کو بھی تھرپارکر سمیت 4 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیدیا گیا تھا۔ فوٹو:فائل

KARACHI: صحرائے تھر میں بدترین قحط سالی کے باعث121بچے جان کی بازی ہار گئے، پورا صحرائے تھر صومالیہ اور ایتھوپیا کی یاد دلانے لگا۔حکومت سندھ نے ایک بار پھر تھرپارکر کو آفت زدہ قرار دیدیا،26 اگست2012 ء کو بھی تھرپارکر سمیت 4 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیدیا گیا تھا جن میں میرپور خاص، بدین،عمر کوٹ اور خیر پور کے علاقے شامل تھے، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو حکومت سندھ نے ریلیف مہیا کرنے کی ہنگامی اقدامات کی ہدایات بھی کی تھیں، مگر کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا ، اب بھوک و افلاس سے بچنے کے لیے لوگوں نے شہروں کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ صورتحال کا جائزہ لینے مٹھی پہنچ گئے۔کیا افسر شاہی الم ناک اموات سے بے نیازی اور سنگدلانہ بے حسی کے مرض کا شکار تو نہیں ؟ بتایا جاتا ہے کہ دسمبر13ء میں 42، جنوری 14ء میں40بچے، فروری میں 36اور مارچ کے ابتدائی پانچ دنوں میں3بچے اسپتال میں دم توڑ گئے۔ حکومت سندھ نے31جنوری کو قحط سالی سے متاثرہ افراد میں مفت گندم تقسیم کرنے کے لیے60ہزار بوریاں تھر پہنچائی تھیں جو محکمہ خوراک کے گوداموں میں پڑی سڑتی رہیں ۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ مٹھی پہنچ گئے جس کے ساتھ کیتھر کی انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی ۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ نے تھرپارکر سے بیمار بھیڑیں دیگر اضلاع میں لے جانے پر پابندی لگا دی، پیپلزپارٹی کے پیٹرن انچیف بلاول بھٹو زرداری نے سندھ حکومت سے کہا ہے کہ وہ تھر کے علاقے میں امدادی کارروائیاں فوری شروع کرے اور امدادی کاموں کی نگرانی کے لیے خصوصی ریلیف کمیٹی تشکیل دے ۔

ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ ایم کیوایم کی جانب سے تھر کے قحط سالی سے متاثرہ افراد خصوصاًعورتوں اور بچوں کی امداد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور وہاں بچوں کے لیے خشک دودھ، پانی اورغذائی اجناس پہنچائی جائیں ۔عجیب بات ہے کہ تھر میں بھوک اگ رہی ہے صحرا نشینوں کو خشک سالی اور قحط کا سامنا ہے جب کہ ڈپٹی کمشنر میرپورخاص نے ضلعی حکومت کی جانب سے گلستان بلدیہ میں منعقدہ 56ویں فلاور شو کا افتتاح کیا۔انھوں نے مختلف پھولوں کے اسٹالوں کا دورہ کیا جہاں انھیں پھولوں کی اقسام کے متعلق بریفنگ دی گئی۔درین اثنا مختلف شعبوں سے وابستہ خواتین نے تھر میں قحط کے باعث بچوں کی اموات کو ریاستی نااہلی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ خدارا تھر سمیت ملک بھر میں بھوک کے ڈیرے ختم کیے جائیں۔ ایکسپریس کے خصوصی موبائل فورم ''عالمی یوم خواتین اور غربت و مہنگائی'' میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواتین سماجی کارکنوں نے کہا کہ تھر میں قحط سالی کی صورتحال ریاستی نااہلی ہے۔ وہاں کی عورت بھی پاکستانی عورت ہے اور ان کے بچے بھی ہمارے بچوں جیسے ہیں۔ ریاست کو صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔یہ دردناک حقیقت ہے کہ اگر تھرپارکر میں بھوک وپیاس سے ہلاکتوں کی خبر ایکسپریس نیوز پر نہ چلتی تو سندھ کی افسر شاہی کا شتر مرغ بدستور صحرائے تھر کی ریت میں سر چھپائے رہتا۔ اب جب کہ وزیراعلیٰ سندھ نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کی سنگینی کا جائزہ لے لیا ہے ضلعی انتظامیہ سے باز پرس کی جانی چاہیے اور ان کو باور کرانا چاہیے کہ تھرپارکر میںکوئلہ کے ذخائر کی طرح تھر کے غربت زدہ عوام کی زندگی ، ان کی محرومیاں اور ادھورے خواب بھی اہل وطن کو جان سے زیادہ عزیز ہیں۔