نان فائلر کیلیے گاڑی رجسٹریشن ٹیکس 100 فی صد بڑھا دیا گیا

پاکستانیوں کو دبئی، لندن یا نیویارک کی ڈکلیئرڈ پراپرٹی کی قیمت پر ایک فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس دینا ہوگا، ایف بی آر حکام


ویب ڈیسک June 18, 2022
نان فائلر گاڑی خرید سکتا ہے تو ٹیکس دے، چیئرمین ایف بی آر

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے نان فائلر پر گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ٹیکس 100 فیصد بڑھانے کی تجویز منظور کرلی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سینیٹرز سعدیہ عباسی، محمد طلحہ محمود، ذیشان خانزادہ، انوار الحق کاکڑ کے علاوہ چیئرمین ایف بی آر، ممبر پالیسی ایف بی آر اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے نان فائلرز کے لیے گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ٹیکس 100 فی صد بڑھانے کی تجویز منظور کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو ہدایت دی کہ آرڈی ننس کے ذریعے قانون سازی نہ کی جائے، جو بھی قانون سازی ہو اسے بل کی شکل میں لایا جائے۔ اجلاس میں ایف بی آر حکام نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانیوں کو دبئی لندن یا نیویارک کی ڈکلیئرڈ پراپرٹی کی قیمت پر ایک فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

ایف بی آر حکام کے مطابق ریٹائرڈ اور سرونگ آرمی ملازمین کے لیے پراپرٹی پر کیپٹل گین ٹیکس چھوٹ واپس لی جارہی ہے، حکومتی ملازمین کے لیے بھی پراپرٹی پر کیپٹل گین ٹیکس چھوٹ واپس لی جارہی ہے تاہم سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کو ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، انکم ٹیکس چھوٹ نجی رفاعی اداروں کو بھی حاصل ہے ، یہ ٹیکس چھوٹ پہلے سے ہے اس میں کچھ بیرونی ادارے بھی ہیں جب کہ کچھ رفاعی ادارے اپنی پراپرٹیز کرائے پر دے کر انکم حاصل کرتے ہیں۔

ملک ریاض سے ملنے والا پیسہ سپریم کورٹ نہیں حکومتی خزانے میں آنا چاہیے، کمیٹی

سینیٹر سعدیہ عباسی نے سپریم کورٹ ڈیم فنڈ پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ پانی کے ذخائر بڑھانے کا کام حکومت کا ہے، سپریم کورٹ کو یہ اختیار ہرگز نہیں کہ اس پر کام کرے، اسی طرح ملک ریاض سے ملنے والا پیسہ بھی سپریم کورٹ کے پاس ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ قانون کے مطابق یہ پیسہ حکومتی خزانے میں آنا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ بجٹ کا عمل ختم ہو جائے تو اس پر دوبارہ بات کریں گے۔

کار انداز پاکستان کی اسکروٹنی کا مطالبہ، اقتصادی امور کے حکام طلب

سینیٹر سعدیہ عباسی نے کار انداز پاکستان کی اسکروٹنی کا مطالبہ کردیا جس پر ایف بی آر نے کہا کہ کارانداز پاکستان چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو تعاون فراہم کرتا ہے، 2015ء میں یہ منصوبہ شروع ہوا اور چھوٹ سے قبل انہوں نے ٹیکس دیا اب ریفنڈ بھی کرنے پڑیں گے، اس پر کارانداز پاکستان ٹریبونل میں چلا گیا، کارانداز پاکستان کے حوالے سے اقتصادی امور ڈویژن سے جواب مانگا جائے۔ اس پر کمیٹی نے اگلے اجلاس میں وزارت اقتصادی امور حکام کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔

اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا کہ گاڑیوں پر نان فائلر کے لیے ٹیکس کو 100 فیصد بڑھا دیا گیا ہے جس پر قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس نہ لگایا جائے، چاہے وہ فائلر ہے یا نان فائلر۔

اس بات کی مخالف کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینا چاہتے ہیں، نان فائلر گاڑی خرید سکتا ہے تو ٹیکس دے، نان فائلر جو بھی پراپرٹی خریدے گا وہ پانچ فیصد ٹیکس دے گا۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل 2022ء میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹم ٹیکس کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پیر کو منعقد ہونے والے اجلاس میں وزیر خزانہ کے ساتھ مل کر تمام تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی اور منگل کے روز منعقد ہونے والے ایوان بالا کے اجلاس میں کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی جائے گی۔