جامعات اور اداروں میں تلاش کمیٹی کے بغیر سربراہوں کا تقرر

قائدعوام یونیورسٹی میں عبدالکریم بلوچ وائس چانسلر اور نثار میمن آئی بی اے سکھرکے ڈائریکٹر مقرر


Staff Reporter March 10, 2014
تقرری کے معاملے پر تحفظات ہیں، ڈاکٹر عاصم حسین کا تلاش کمیٹی سے مستعفی ہونیکاعندیہ۔ فوٹو: فائل

سندھ کی سرکاری جامعات اور اداروں (انسٹی ٹیوٹس) میںتلاش کمیٹی کی سفارش کے بغیر وائس چانسلرز اور ڈائریکٹرزکی تقرری کا معاملہ گھمبیر صورت اختیارکرگیا۔

تلاش کمیٹی کی سفارش کے بغیر نواب شاہ انجینئرنگ یونیورسٹی اورآئی بی اے سکھر میں سربراہوں کے تقررکے بعد تلاش کمیٹی نے معاملے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے، سندھ کی سرکاری جامعات میں وائس چانسلرزکے انتخاب کے لیے قائم تلاش کمیٹی کے رکن ڈاکٹرعاصم حسین نے تلاش کمیٹی سے مستعفی ہونے کا عندیہ دیا ہے سندھ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تلاش کمیٹی کے بغیر سربراہوں کی تقرری کے معاملے پر جب کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عاصم حسین سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ لندن میں تھے ابھی اس معاملے کا علم نہیں، تاہم اگر یہ خبر مصدقہ ہے تو ان کے اس معاملے پر شدید تحفظات ہیں اور تسلسل کے ساتھ سرکاری جامعات میں خلاف ضابطہ تقرریوں کی صورت میں وہ تلاش کمیٹی میں مزیدکام کے خواہشمند نہیں ہیں۔

ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا تھاکہ وہ ربراسٹیمپ کے طور پرکام نہیں کرسکتے ہیں وہ خود اس معاملے کی چھان بین کریں گے اگر معاملے میں صداقت پائی گئی توسنجیدگی سے تلاش کمیٹی سے استعفیٰ دینے پر غورکریں گے، یادرہے کہ گزشتہ برس اگست میں سندھ کی سرکاری جامعات کے ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے بعد سرکاری جامعات اور اداروں (انسٹی ٹیوٹس) میں مسلسل تیسری بارکسی وائس چانسلر یا ڈائریکٹرکی تقرری پر پابندی لگائی گئی تھی جبکہ گورنر ہائوس میں قائم چانسلر سیکریٹریٹ کی تلاش کمیٹی کوغیرفعال کرکے ایک علیحدہ تلاش کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جسے وائس چانسلرکی تقرری کے لیے انتخاب اورسفارش کا اختیار دیا گیا تھا تاہم اس قانون اور تلاش کمیٹی کی تشکیل کے باوجود قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی نواب شاہ میں تلاش کمیٹی کی سفارش کے بغیرعبدالکریم بلوچ کو وائس چانسلر مقررکردیا گیا جبکہ ڈاکٹر نثار میمن کو تیسری مدت کے لیے آئی بی اے سکھرکا ڈائریکٹر بنادیا گیا۔