سیکریٹری صحت سے متحدہ کے کارکن پر تشدد کی رپورٹ طلب

عدالت عالیہ کا آغاخان اسپتال کے نامزد2 سینئر ڈاکٹروں اور2 سرکاری ریڈیولوجسٹ میڈیکل بورڈ میں شامل کرنے کا حکم


Staff Reporter March 12, 2014
آغاخان اسپتال نے سینئر ڈاکٹروں انعام اور مسرورکو نامزد کردیا،10دن میں فہدعزیز پر تشدد سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن فہد عزیز پر دوران حراست تشدد کی تحقیقات کیلیے قائم کردہ میڈیکل بورڈ کیلیے آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے نامزد کردہ 2 سینئر ڈاکٹروں اور 2 سرکاری ریڈیولوجسٹ کو شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے 10دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار، یونٹ79کے کارکن فہد عزیز اور فہد عزیز کے والد عبدالعزیز کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل آغاخان اسپتال نے عدالتی حکم پر مذکورہ میڈیکل بورڈ کیلیے سینئر سرجن ڈاکٹر انعام پل اور سینئر آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر مسرور عمر کو نامزد کیا ہے، عدالت نے سیکریٹری صحت کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ دونوں ماہرین اور 2 سینئر ریڈیولوجسٹ کو میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جائے اور10دن میں رپورٹ پیش کی جائے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے وکیل بیرسٹرفروغ نسیم کی درخواست پر عدالت نے فہد عزیز پر تشدد کی تحقیقات کیلیے قائم میڈیکل بورڈ میں نجی اسپتال کے ڈاکٹروں کوبھی شامل کرنے کیلیے آغاخان اسپتال انتظامیہ کونوٹس جاری کیا تھا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف آپریشن شروع کررکھا ہے، ایم کیوایم کے 8 کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے اور 54 تاحال لاپتہ ہیں، حال ہی میں ایک کارکن سلمان کو حراست میں لے کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ماورائے عدالت قتل کرکے لاش پھینک دی گئی، درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ کارکن فہد عزیز کو 8فروری کی شب اس وقت شاہ فیصل کالونی فلائی اوور سے گرفتار کیا گیا جب وہ اپنی شادی کے بعد دلہن کے ہمراہ اپنے گھر کورنگی جارہا تھا۔