اسلامی نظریاتی کونسل بوسیدہ رسوم نافذکرناچاہتی ہےفرحت بابر

تازہ سفارشات انتہاپسندوں کاایجنڈانافذکرنیکی کوشش ہے جوانتہائی قابل مذمت ہے


Numainda Express March 13, 2014
کونسل2008کی رپورٹ میں90فیصدقوانین کوکہہ چکی کہ یہ اسلام کے منافی نہیں فوٹو : فائل

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کے تازہ ترین بیانات اورکونسل کی سفارشات مذہب کے نام پرانتہا پسندوں کا ایجنڈانافذ کرنے کی کوشش ہے۔

اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹرفرحت اللہ بابرنے کہاہے کہ نابالغ بچوں کی شادی پرپابندی اوردوسری شادی سے قبل پہلی بیوی سے تحریری اجازت کو غیراسلامی قرار دیناقابل مذمت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ان اعلانات کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ وہ قرونِ وسطیٰ کے بوسیدہ قوانین اور رسم ورواج کواسلام کے نام پرنافذ کراناچاہتی ہے۔

انھوں نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل پہلے ہی تمام قوانین کاجائزہ لے چکی ہے اوراس نے اپنی 2008کی رپورٹ میں بچوں کی شادی اورعائلی قوانین سمیت 90فیصد قوانین کے متعلق قراردیا ہے کہ یہ اسلام کے منافی نہیں ہیں۔ کونسل اب اپنی رپورٹ کوکیسے بدل سکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک مشاورتی ادارہ ہے لیکن اس کی سفارشات اور قراردادوں سے لوگوں میں کنفیوژن پیداہو رہاہے اورلوگ ڈسٹرب ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں