کمشنر کی زیر صدارت اجلاسڈویژن میں قحط کی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات پر غور

متعلقہ اداروں کے افسران کو الرٹ رہنے کی ہدایت، پینے کے پانی اور اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جمال مصطفی


Numainda Express March 13, 2014
حیدرآباد: کمشنر جمال مصطفی سید کوہستانی علاقوں میں پانی کی کمی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں ۔ فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس

ڈویژنل کمشنر حیدرآباد جمال مصطفی سید نے کہا ہے کہ ڈویژن کے مختلف اضلاع میں امکانی قحط سالی کی صورتحال سے نمٹنے کیلیے موثر اقدامات کیے جارہے ہیں۔

جبکہ مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، ممکنہ قحط سالی کی صورتحال سے نمٹنے کیلیے حیدرآباد ڈویژن میں تمام تر انتظامات تسلی بخش ہیں اس کے علاوہ ڈویژنل سطح پر دو کمیٹیاں بھی بنائی ہیں۔ مختلف اضلاع کے ڈی سیز و دیگر متعلقہ ضلعی افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نے کہا کہ حیدرآباد ڈویژن کے بدین، ٹھٹھہ ،سجاول ، جامشورو ، دادو اور ضلع بے نظیر آباد، ساحلی، صحرائی اور کوہستانی پٹی کے قریب واقع ہیں جہاں قحط کاخدشہ ہے اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ان علاقوں میں پینے کے صاف پانی، صحت کی سہولتوں کی فراہمی ، خوراک ، وٹرنری عملے کی موجودگی اور انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قحط کی ابتدائی تین علامات میں پانی کی قلت، گھاس اور درختوں کی کمی سمیت مویشیوں اور دیگر جانوروں کی خراب صحت شامل ہیں جن پر تمام ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ افسران کو کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے صورتحال سے نمٹنے اور پیشگی اقدامات کیلیے قحط نگراں کمیٹی اور قحط ٹاسک کمیٹیاں تشکیل دیں جنہیں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران امکانی قحط سے متعلق رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر دینگے۔ اجلاس کے دوران کمشنر نے محکمہ سیڈا، آبپاشی ، خوراک ، حیسکواور دیگر متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ صورتحال سے نمٹنے کیلیے باہمی رابطے میں رہیں اور تمام اضلاع میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، صحت کی سہولتوں کی موجودگی و دیگر اشیا کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ اجلاس میں ضلع بدین، جامشورو ، ٹھٹھہ ، دادو ، بے نظیر آباد ، ٹنڈو الہٰیار ، ٹنڈو محمد خان اور سجاول کے ڈپٹی کمشنرز ، چیف انجینئر کوٹری بیراج و دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔