جامعہ کراچی میں اجلاس کلیہ علوم وفنون کی تقسیم روک دی گئی

’’ورک لوڈ‘‘ کا جائزہ لینے کیلیے کمیٹی قائم، شعبہ کرمنالوجی کے قیام کی منظوری نہ دی جاسکی


Staff Reporter March 14, 2014
’’ورک لوڈ‘‘ کا جائزہ لینے کیلیے کمیٹی قائم، شعبہ کرمنالوجی کے قیام کی منظوری نہ دی جاسکی۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

جامعہ کراچی کی اکیڈمک کونسل کااجلاس انتہائی اہم معاملات پرفیصلوں کے بغیرختم ہوگیاہے جبکہ اکیڈمک کونسل کے بعض اراکین کی جانب سے سخت تنقیدکے بعد کلیہ علوم اورکلیہ فنون کی تقسیم کوروک دیاگیاہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ اس منصوبے کو مسترد کردیا گیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے انتظامی بنیادوں پرکلیہ علوم اورکلیہ فنون کو6 مختلف کلیہ جات میں تقسیم کرنے کامنصوبہ پیش کیاتھاجسے اتفاق رائے نہ ہونے کے بعدمسترد کردیا گیا ،جامعہ کراچی کی اکیڈمک کونسل کااجلاس شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر کی زیر صدارت منعقدہوااجلاس میں شعبہ کرمنالوجی کے قیام کی منظوری بھی نہیں ہوپائی جبکہ یونیورسٹی اساتذہ کے ''ورک لوڈ''کوکم کرنے کی سفارش پر حتمی فیصلہ تونہیں ہوپایا، تاہم اس معاملے پر رئیس کلیہ علوم پروفیسر عابداظہرکی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

یونیورسٹی اعلامیے کے مطابق ٹیچنگ لوڈکے لیے اس ضمن میں اپنی سفارشات اکیڈمک کونسل کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی ،اجلاس میںبورڈ برائے اعلیٰ تعلیم وتحقیق کے لیے اکیڈمک کونسل سے پروفیسر ڈاکٹر ماجد ممتاز،پروفیسر ڈاکٹر عابد حسنین اور پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد خاں کو منتخب کیاگیا، کلیہ قانون کے بورڈ کے لیے پروفیسر ڈاکٹر انیلا عنبر ملک ، پروفیسر ڈاکٹر فیاض وید اور پروفیسر ڈاکٹر جمیل کاظمی کا انتخاب ہوا،مزید براں نیشنل نیماٹولوجیکل ریسرچ سینٹرکے بورڈ آف گورنر ز کے لیے پروفیسر ڈاکٹر انصر رضوی منتخب ہوئے ،یونیورسٹی اعلامیے کے مطابق اجلاس میں اکیڈمک کونسل نے مختلف فیکلٹیز سے موصولہ اکیڈمک پروگرامز کی منظوری بھی دی ، اجلاس کے آخر میں رئیس کلیہ طب پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال قاضی اور شعبہ شماریات کے پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین کی وفات پر دعائے مغفرت کی گئی۔