اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ معطل، پاکستان آنے پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

ویب ڈیسک  جمعـء 23 ستمبر 2022
اسحاق ڈار ائرپورٹ پر اترتے ہی سیدھے عدالت پیش ہو جائیں گے، وکیل کی یقین دہانی (فوٹو فائل)

اسحاق ڈار ائرپورٹ پر اترتے ہی سیدھے عدالت پیش ہو جائیں گے، وکیل کی یقین دہانی (فوٹو فائل)

 اسلام آباد: احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دائمہ وارنٹ معطل کرتے ہوئے پاکستان آنے پر گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔ اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر دلائل کا آغاز کیا۔

جج نے وکیل سے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار بیمار تھے یا کوئی اور مسئلہ تھا؟۔ وکیل نے عدالت کو مسلم کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کی وجوہات سے آگاہ کیا اور استدعا کی کہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جائیں۔ وکیل نے عدالت کو یقین دلایا کہ اسحاق ڈار ائرپورٹ پر اترتے ہی سیدھے عدالت پیش ہو جائیں گے۔

فاضل جج نے استفسار کیا کہ پراسیکیوٹر کہاں ہیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو جواب بتایا کہ افضل قریشی عمرہ کی ادائی کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ بعد ازاں مختصر وقفے کےبعد احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ 7 اکتوبر تک معطل کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے اسحاق ڈار کو سرینڈر کرنے کا موقع دیتے ہوئے حکم دیا کہ اسحاق ڈار کو پاکستان آنے پر گرفتار نہ کیا جائے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ اسحاق ڈار پاکستان واپس آ جائیں پھر وارنٹ منسوخی کو دیکھیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔