سانحہ گڈانی سرد خانے آنیوالے حواس باختہ رقت انگیز مناظر

ورثا رروتے بلکتے رہے،لاشیں حوالے نہ کی جاسکیں، کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا


Staff Reporter March 23, 2014
ورثا رروتے بلکتے رہے،لاشیں حوالے نہ کی جاسکیں، کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ فوٹو: فائل

سانحہ گڈانی کے بعدسوختہ لاشوں کوایدھی سرد خانے لایا گیا،حادثے کی اطلاع ملنے پر بسوں میں سوار مسافروں کے رشتے داروں اوردوست احباب کی بڑی تعدادسردخانے پہنچ گئی اورحادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی سوختہ لاشیں دیکھ کرنہ صرف چیخ و پکارمچ گئی بلکہ شناخت کیلیے آنے والے افراد اپنے حواس کھوبیٹھے اورکئی افرادصدمے سے بے ہوش ہوگئے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی کوچزمیں سوار مسافروں کے رشتے داراوردوست احباب بڑی تعدادمیں دیوانہ واراپنے پیاروں کی تلاش میں ان کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہوئے سول اسپتال پہنچے جہاں انھیں نہ پاکرایدھی سردخانے کارخ کیا،حادثے کے بعدلائی جانے والی لاشوں کی شناخت اور وصول کرنے کے لیے ایدھی سرد خانے پررش لگ گیا اورناقابل شناخت سوختہ لاشیں دیکھ کر مسافروں کے پیارے مارے مارے گھومتے رہے اور سرکاری طور پرانھیں دلاسہ دینے والا کوئی بھی نہ تھاجبکہ وہ ایک ایک سے التجائیں کر رہے تھے کہ ہمارے پیاروں کی لاشیں ہمیں دے دو۔ایدھی سردخانے لائی جانے والی تمام لاشیں ناقابل شناخت ہیں اوران کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بعدہی ممکن ہوسے گی،اس نے ایدھی کے رضاکاروں نے رشتے داروں کودوست احباب کو دلاسہ دیا کہ انھیں صبر سے کام لیناہوگاتاکہ وہ اپنے ہی پیارے کی لاشیں لیجا سکیں۔

ایدھی سردخانے پر لاشوں کی شناخت کرنے کیلیے آنے والوں نے الزام عائدکیاکہ ہمارے اوپراتنی بڑی آفت ٹوٹ گئی ہنستے کھیلتے بچے اورعورتیں جل کر راکھ ہوگئیں اوریہاں پر ہماری رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں، ایدھی سرد خانے کے باہر لیاری سے آنے والے ظفرنے بتایا کہ وہ کلاکوٹ کے علاقے آٹھ چوک کا رہائشی ہے اور حادثے کا شکار ہونے والی بسوں میں ان کا کزن اختر اور دوست تنویربھی شامل تھا جو کہ بلوچستان میں ملازمت کرتے تھے اورچھٹی منانے کے لیے گھرآرہے تھے کہ المناک موت کا شکارہوگئے۔ایدھی سرد خانے کے باہر موجود حب انتظامیہ کے نمائندے نے ایکسپریس کو بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والے ایک بس میں 30 جبکہ دوسری بس میں 40 مسافر سوار تھے جبکہ دونوں ٹرکوں میں مجموعی طور پر 4 افراد سوار تھے جس میں 2 ڈرائیور اور 2 کلینر شامل ہیں۔