کراچی کے تاجر میر رضا کے قتل کو 60 روز مکمل ہونے پر انصاف کے متلاشی افراد کا سی ویو پر مارچ کے لیے جمع ہوئے اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سی ویو پر منعقد مارچ میں میر رضا کی بہن، والد سمیت سول سوسائٹی کے دیگر افراد اور شہریوں نے شرکت کی۔
شرکا نے "میر کے قاتلوں کو گرفتار کرو، میر ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں، میر کو انصاف دو کے نعرے لگائے‘‘۔
شرکا کا کہنا تھا کہ میر کراچی کا بچہ تھا اس کے لیے پورا کراچی انصاف مانگ رہا ہے، آج لاش ملے تقریبا 60 روز ہوچکے ہیں اب تک اس کے اہلخانہ انصاف مانگ رہے ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ میر اور اس کے اہلخانہ کی کردار کشی کی جائے۔
شرکا نے کہا کہ اب تک پولیس یا حکومت قاتلوں کا پتا نہیں چلا سکی۔ متوفی کے والد میر حسین نے کہا کہ جج کا کام کرائم انویسٹیگیشن نہیں ہے جج فیکٹ فائنڈنگ دے سکتا ہے جبکہ جے آئی ٹی قاتل پکڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو ہم کہتے آریے تھے وہی کمیشن بھی کہہ رہا ہے کہ پولیس نے ویڈیوز اور شواہد مٹائے ہیں، مجھ سے میری انویسمنٹ کا پوچھتے ہیں ،ضرور پوچھیں لیکن ہمیں قاتلوں کے بارے میں بھی بتائیں۔
میر رضا کی بہن علیشبہ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک انصاف نہیں ملا جبکہ اب جوڈیشل کمیشن کی آخری سماعت ہونے جارہی ہے جبکہ جسٹس عمر سیال کوئی فیصلہ نہیں بلکہ فائنڈنگز دیں گے۔
علیشبہ نے کہا کہ ہماری جے آئی ٹی کی درخواست مسترد ہوئی مگر اب جوڈیشل کمیشن کی سماعتوں اور پولیس کے اعترافات کے بعد ہم پھر سے جے آئی ٹی کی تشکیل کیلیے درخواست دائر کرنے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا اب تک فیملی میں سے کسی فرد کے خواب میں نہیں آیا البتہ اپنے کئی دوستوں کے خواب میں آیا اور سب نے سفید لباس میں دیکھا جبکہ وہ خوش بھی دکھائی دیا۔
علیشبہ کے مطابق میر رضا کے دوستوں نے بتایا کہ بھائی نے کہا کہ وہ یہاں اچھے لوگوں کے ساتھ ہے اور بہت جلد ٹھیک ہوجائے گا۔
علیشبہ نے غمزدہ لہجے میں کہا کہ میر شاید ہمارے خواب میں اس لیے نہیں آیا کہ وہ پہلے انصاف چاہتا یے۔