ہفتہ رفتہ دنیا بھر کی کاٹن مارکیٹس میں تیزی مقامی نرخ گرگئے

چینی درآمدی کوٹے کا اعلان اور امریکی برآمدکا بڑھنا تیزی، سوتی دھاگے کی درآمداورڈالر کی قدر مندی کاباعث بنے


Ehtisham Mufti March 24, 2014
بھارت سے درآمد پر پابندی یا ڈیوٹی کا فوری نفاذنہ کیا گیا تو پاکستانی کاٹن انڈسٹری زوال پذیر ہو سکتی ہے،احسان الحق۔ فوٹو: فائل

چین کی جانب سے اعلان کردہ کاٹن پالیسی برائے 2014-15 میں روئی درآمدی کوٹہ جاری کرنے کے اعلان اور امریکی کاٹن ایکسپورٹس توقعات سے زیادہ ہونے کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان سامنے آیا۔

جبکہ پاکستان میں بھارت سے سوتی دھاگے کی بڑے پیمانے پر درآمد اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان گزشتہ ہفتے کے دوران بھی جاری رہا اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارت سے سوتی دھاگے کی درآمد پر مکمل پابندی یا درآمدی ڈیوٹی کا نفاذ فوری طور پر نہ کیا گیا تو اس سے پاکستانی کاٹن انڈسٹری زوال پذیر ہو سکتی ہے ۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چین نے آخر کار نئی کاٹن پالیسی کا اعلان کر دیاجس کے مطابق یکم اپریل سے چین اندرون ملک سے روئی کی 400بیلز خریدنے والوں کو 100روئی کی بیلز دوسرے ممالک سے ایک فیصد ڈیوٹی پر درآمد کرنے کی اجازت ہو گی جبکہ چین نے اپنے نیشنل ریزروز سے فروخت ہونے والی روئی کی قیمت 18ہزار یو آن فی ٹن سے کم کر کے 17ہزار 250یو آن فی ٹن کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ چین نے 2014-15کے دوران اپنے کسانوں کو 380یو آن فی ٹن سبسڈی دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ چین نے 2014-15 میں اپنے روئی کے نیشنل ریزروز کیلیے زمینداروں سے براہ راست روئی خریدنے کے بجائے انہیں سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق چین کی جانب سے اعلان کی گئی نئی کاٹن پالیسی کے روئی کی عالمی منڈیوں پر مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا نے 2014-15 کیلیے 1کروڑ 25لاکھ بیلز روئی برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا جس سے توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ ہر ہفتے 2لاکھ 40ہزار بیلز کے لگ بھگ روئی کے برآمدی آرڈرز ملیں گے لیکن پچھلے کافی عرصے سے امریکا سے ہر ہفتے کے دوران چین سے 3لاکھ سے 3لاکھ 25ہزار بیلز کے لگ بھگ روئی برآمد ہو رہی ہے جس سے توقع ہے کہ امریکا میں 2014-15 میں روئی کی اینڈنگ اسٹاکس مختص کیے گئے تخمینوں کے مقابلے میں کافی کم ہونگے جس کے باعث نیویارک کارٹن ایکسچینج میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتیں پچھلے 2سال کی بلند ترین سطح 93.31سینٹ فی پائونڈ تک پہنچ گئی اور توقع ظاہر کی جا رہی کے رواں ہفتے کے دوران بھی بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا یہ رجحان جاری رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے معمولی تبدیلی کے ساتھ 97.35سینٹ فی پائونڈ جبکہ مئی ڈلیوری روئی کے سودے 1.12سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ پچھلے دو سال کی بلند ترین سطح 93.31سینٹ فی پائونڈ، بھارت میں روئی کی قیمتیں 177روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 42ہزار 185روپے فی کینڈی جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 150روپے فی من کمی کے بعد 6ہزار 600روپے فی من تک گر گئے۔ احسان الحق نے بتایا کہ موجودہ حکومت کی بھارت نواز پالیسیوں کے باعث ملکی کاٹن انڈسٹری اس وقت انتہائی زوال پذیر ہے ٹیکسٹائل ملز مالکان ،کاٹن جنرز اور کاشتکاروں کی جانب سے متعدد اپیلوں کے باوجود موجودہ حکومت نے نہ تو بھارت سے سوتی دھاگے کی درآمد پر پابندی عائد کی ہے اور نہ ہی اس کی درآمد پر ابھی تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جس کے باعث ملک بھر کی کاٹن انڈسٹری کے معاشی بحران میں مبتلا ہونے کے امکانات دن بدن بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فیڈرل ریزرو بینک آف امریکا نے اوپن مارکیٹ سے بانڈ خریدنے کی حد میں گزشتہ ہفتے کے دوران مزید 10بلین ڈالر کی کمی کا اعلان کرتے ہوئے اب ہر ہفتے مارکیٹ سے بانڈز کی خرید 65بلین ڈالر سے کم کر کے 55بلین ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے منفی اثرات رواں ہفتے کے دوران دنیا بھر کی مارکیٹوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ بھارت میں 28فروری تک 78لاکھ روئی کی بیلز کے برآمدی سودے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق روئی کے برآمدی سودوں کی رجسٹریشن 95لاکھ بیلز ہونے کے بعد بھارت سے روئی کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں سال بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کافی کم ہونے کے امکانات ہیں جس کے باعث کاٹن کارپورریشن آف انڈیا جو قبل ازیں ہر ہفتے بھارت میں روئی کی مجموعی ملکی پیداوار بارے اعدادوشمار جاری کرتی تھی لیکن 26جنوری 2014 کے بعد کاٹن کارپوریشن آف انڈیا نے تاحال بھارت میں روئی کی مجموعی ملکی پیداوار کے اعدادوشمار جاری نہیں کیے۔

مقبول خبریں