محکمہ صحت فرائض سے غفلت اور طویل غیر حاضری پر 7 ڈاکٹر برطرف

ایک ڈاکٹر کی 3 سال اور2 ڈاکٹروں کی ترقیاں ایک سال کے لیے موخر، ایک ڈاکٹرکا گریڈ کم ،دوسرے کوتنبیہ کا نوٹس جاری


Staff Reporter March 26, 2014
محکمہ صحت کے کئی افسران دہری سرکاری ملازمتیں اور کئی ڈپوٹیشن اوربغیر تنخواہوںکے طویل رخصت پر ہیں،ذرائع۔ فوٹو: فائل

محکمہ صحت نے فرائض سے غفلت اور طویل غیرحاضری پر7 ڈاکٹروں کو ان کی ملازمت سے برطرف کردیاہے جبکہ ایک ڈاکٹر کی 3 سال اور2 ڈاکٹروں کی ترقیاں ایک سال کیلیے موخرکردی ہیں۔

ایک ڈاکٹرکا گریڈ کم کردیاگیا اورایک ڈاکٹر کو تنبیہ کا لیٹر جاری کیا گیاہے ، برطرف کیے جانے والے ڈاکٹروں کا گریڈ18ہے جس میں ایک لیڈی ڈاکٹر بھی شامل ہے ، ڈاکٹروں میں ڈاکٹر وقارمصطفی قریشی (آپتھالموجسٹ) ڈاکٹر سید ظفر مہدی( اینستھسیا) ڈاکٹرنثار احمد ڈاہر، ڈاکٹر اعجاز حسین، ڈاکٹرعبدالجبار صدیقی، ڈاکٹر ارشد اللہ، لیڈی ڈاکٹر لبنیٰ تسنیم شامل ہیں جن کے برطرفی کے لیٹر چیف سیکریٹری سندھ سجاد سلیم ہوتیانہ نے جاری کیے،3 سال کیلیے سالانہ ترقی نہ دینے کی سزا پانے والے ڈاکٹروں میں لیڈی ڈاکٹر عظمٰی ریاض ، لیڈی ڈاکٹرنوشیک عزیز جبکہ ڈاکٹر ریاض احمد بھرٹ کا ایک سال کا انکریمنٹ روک دیاگیا ، ڈاکٹر لچھمن داس کووارننگ لیٹرجاری کردیاگیا اور ڈاکٹر سراج الحق ڈینٹل سرجن کے عہدے میں تنزلی کرکے ایک گریڈ کم کردیاگیا ، ان کا گریڈ18تھا، چیف سیکریٹری سندھ نے ڈاکٹرارشد اللہ کو برطرفی کے ساتھ ساتھ سرکاری خزانے سے 2 تنخواہیں لینے کی پاداش میں دہری تنخواہ کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے ، وہ بیک وقت 2سرکاری ملازمتیںکررہے تھے۔

چیف سیکریٹری سندھ نے یہ احکام منگل کو منعقدہ اجلاس کی صدرات کرتے ہوئے دیے، اجلاس میں دیگر افسران نے بھی شرکت کی، واضح رہے کہ محکمہ صحت کے مختلف ذیلی محکموں میں متعدد افسران ایسے ہیں جو دہری ملازمتیںکررہے ہیں اور محکمہ کے بعض افسران کی ملی بھگت سے سال سے ڈپوٹیشن اوربغیر تنخواہوںکے طویل رخصت پرہیں لیکن دوسری جگہ ملازمتیں کررہے ہیں ، معلوم ہوا کہ سندھ میڈیکل فیکلٹی میں متعدد افسران واہلکارغیرحاضر رہتے ہیں ، سول اسپتال سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں میں افسران کی ملی بھگت سے ڈاکٹروں سمیت دیگر عملہ ڈیوٹیوں سے مسلسل غیر حاضررہتا ہے ، محکمہ میں فزیکل ویری فیکیشن کا نظام نہ ہونے عملے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی ۔