بلدیاتی انتخابات کا خواب
چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانا آئین سے انحراف ہے
چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانا آئین سے انحراف ہے اس لیے پنجاب اور کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر متعلقہ حکمرانوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں چوہدری شجاعت کو سندھ اور کے پی کے کی حکومتیں یاد نہیں آئیں۔ سندھ میں الیکشن کمیشن نے دو بار بلدیاتی تاریخیں دی تھیں مگر سندھ حکومت نے دونوں تاریخوں کو اہمیت نہیں دی اور پنجاب میں بھی یہی ہوا جب کہ کے پی کے حکومت نے اپنے چیئرمین کا وعدہ پورا نہیں ہونے دیا۔ جنھوں نے تین ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا وعدہ کیا تھا مگر عمران خان بھی اس سلسلے میں دوسروں جیسے ہی نکلے۔ قوم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ آمر کہلانے والے جنرل ضیا نے ملک میں تین بار اور جنرل پرویز مشرف نے دو بار بلدیاتی انتخابات کرائے جب کہ سپریم کورٹ کے مطابق جمہوری کہلانے والی سیاسی حکومتوں نے نو سالوں میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جو آئین کی سراسر خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
ق لیگ کی سیاسی حکومت نے 2005 میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے جو پورے ملک میں ہوئے تھے اور صوبوں کے پاس بلدیاتی اختیار آنے کے بعد صرف بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے مگر مخصوص نشستوں اور بلدیاتی عہدیداروں کا انتخاب تین ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود نہیں کرایا جا رہا۔
بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی نرسری ہیں مگر جمہوری حکومتیں ہمیشہ بلدیاتی انتخابات سے ٹال مٹول کرتی آئیں اور اگر 2005 میں صدر پرویز مشرف نہ ہوتے تو ق لیگ بھی بلدیاتی انتخابات نہ کراتی سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ انھوں نے بھی اپنی سیاست کی ابتدا بلدیاتی انتخابات سے کی تھی، یوسف رضا گیلانی جب وزیراعظم تھے تو اس وقت بھی بلدیاتی انتخابات کرانے کی بات ضرور کرتے تھے مگر وزیراعظم کی حیثیت سے انھوں نے کسی صوبائی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے نہیں لکھا جو کہ نہ صرف آئینی ضرورت تھی اور وزیراعظم گیلانی اگر چاہتے تو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکتا تھا۔ واضح رہے کہ اپنے دور صدارت میں آصف علی زرداری نے بھی سندھ حکومت کو چھ ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہدایت کی تھی۔ سندھ کے وزیر بلدیات آغا سراج بھی آئے دن بلدیاتی انتخابات کرانے کی نوید سناتے رہتے تھے جب کہ سندھ کے سارے ارکان اسمبلی اور سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانا ہی نہیں چاہتے تھے نہ انھوں نے کروائے۔
سابق دور میں پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے کی حکومتیں بھی اپنے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرانا ہی نہیں چاہتی تھیں۔ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے متعدد بار چاروں صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کو کنٹونمنٹس میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا کہا مگر کسی نیاس پر عمل نہیں کیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر الیکشن کمیشن نے سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخیں مقرر کیں مگر صرف اسی بلوچستان میں بلدیاتی الیکشن 7 دسمبر کو کرائے گئے جہاں کی سیاسی حالت بھی خراب تھی مگر تمام سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔ ان جماعتوں میں تین صوبوں میں برسر اقتدار مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف بھی شامل تھیں مگر تینوں جماعتیں اپنے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرا رہیں اور آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوچکی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات سیاست کا گراس روٹ لیول ہی نہیں بلکہ عوام کا وہ واحد محکمہ اور ذریعہ ہیں جن سے عوام کا سب سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے، دنیا کے بڑے ملکوں میں وہاں کے شہروں میں مقامی حکومتوں کا انتہائی با اختیار اور موثر نظام موجود ہے اور وہاں پولیس بھی میٹروپولیٹن اداروں کے ماتحت ہے۔
پاکستان میں پہلی بار ایک آمر جنرل پرویز مشرف نے 2001میں ضلع حکومتوں کا ایک با اختیار نظام دیا جو صوبائی حکومتوں اور بلدیاتی محکموں کی دسترس سے محفوظ اور وفاقی ادارے قومی تعمیر نو بیورو، این آر بی سے منسلک تھا۔ یہ با اختیار نظام 2002 کے عام انتخابات ہونے تک آزادی سے کام کرتا رہا۔ صدر پرویز مشرف اس نظام کو مزید با اختیار بنانا چاہتے تھے مگر بعد میں وہ سیاسی صوبائی حکومتوں کے دباؤ میں آگئے کیوں کہ ارکان اسمبلی خود کو ناظمین سے کم تر سمجھنے لگے تھے ا ور ناظمین ان کی مداخلت اور دباؤ برداشت نہیں کرتے تھے جس کی وجہ سے 2005 میں ضلع حکومتوں کے اختیارات کم کرائے گئے اور آئینی تحفظ ختم ہونے پر صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کرانے کی بجائے بلدیاتی اداروں پر سرکاری ایڈمنسٹریٹر مسلط کردیے۔ بلدیاتی فنڈ صوبائی حکومتوں نے من مانے طور پر خرچ کیے۔ غیر قانونی اضافی عملہ بھرتی کرکے بلدیاتی اداروں پر مالی بوجھ بڑھایا اور ریکارڈ کرپشن ہوئی جس کے نتیجے میں بلدیاتی ادارے تباہ ہوئے، تعمیری و ترقیاتی کام رکے اور آج ان اداروں کے ملازمین سالوں سے بروقت تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج کررہے ہیں مگر سیاسی حکومتوں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔
دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں تین سطحی حکومتیں ہوتی ہیں۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی جو اپنے مقررہ اختیارات کے تحت کام کرتی ہیں، کسی مہذب ملک میں ارکان اسمبلی کو سالانہ ترقیاتی فنڈ نہیں ملتا اور یہ کام مقامی حکومتیں کراتی ہیں اور وہاں ارکان اسمبلی بلدیاتی معاملات سے دور اپنا قانون سازی کا حقیقی کام کرتے ہیں جب کہ ہمارے ارکان اسمبلی اپنا اصل کام چھوڑ کر بلدیاتی معاملات میں اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد کے لیے خصوصی دلچسپی لیتے ہیں اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں اصل رکاوٹ بھی یہی ہیں جو نچلی سطح پر با اختیار نمایندے نہیں چاہتے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے سپریم کورٹ کو دکھانے کے لیے انتہائی متنازعہ حلقہ بندیاں جان بوجھ کر کیں اور اپنے لوگوں کو منتخب کرانے کے لیے مرضی کے حلقے جنھیں ہائی کورٹوں میں چیلنج ہوتا تھا وہ ہوئے اور غیر قانونی قرار پائے، یہی دونوں حکومتیں چاہتی تھیں تاکہ بلدیاتی الیکشن نہ ہوسکیں، سپریم کورٹ نے حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمیشن کو دیکر سندھ پنجاب حکومتوں کی مذموم منصوبہ بندی ناکام بناکر نومبر تک بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہدایت کی ہے اور پنجاب حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنا چاہ رہی ہے تاکہ مزید تاخیر ہو۔ سندھ حکومت بھی یہی چاہتی ہے جب کہ کے پی کے حکومت نے جو حلقہ بندی کرائی ہے اسے وہاں کی اپوزیشن نے بھی قبول کیا ہے اور وہاں کے لیے کافی حد تک با اختیار بلدیاتی نظام بنایا گیا ہے جب کہ سندھ و پنجاب حکومتوں نے جنرل ضیا الحق کے نظام سے بھی کمزور اور برائے نام اختیارات کا نظام منظور کرایاہے۔ چاروں صوبوں کے بلدیاتی نظام کمزور، بے اختیار اور مختلف ہوں گے جو ایک مذاق بن کر رہ جائیں گے، یہ بلدیاتی نظام بیورو کریسی کے رحم و کرم پر ہوں گے جس سے نہ عوام کا فائدہ ہوگا نہ عوامی مسائل حل ہوسکیں گے۔ بلدیاتی حکومتیں بہت اہم ہوتی ہیں جن کا تعلق صوبائی حکومتوں کی بجائے وفاق سے ہونا چاہیے تاکہ ملک بھر میں ایک جیسا با اختیار بلدیاتی نظام ہو مگر صوبائی حکومتیں ایسا نہیں ہونے دیں گی اور نچلی سطح پر با اختیار نظام کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیں گی کیوں کہ یہ عوام کو اختیار دینے کے خلاف ہیں۔