قائمہ کمیٹی داخلہ میں تحفظ پاکستان ترمیمی بل منظور

اپوزیشن کی جانب سے مخالفت، مسلم لیگ ن اورمتحدہ ارکان میں جھڑپ، کالا قانون ہمیشہ متحدہ کے خلاف استعمال ہوا،آصف حسنین


Numainda Express April 02, 2014
آرمڈ فورسز کو شہریوں کی گرفتاریوں کا حق دینے سمیت بل کی متعدد شقوں پر اعتراض ہے، عارف علوی،خلاف آئین کچھ نہیں ہوگا،وزیرمملکت بلیغ الرحمن کی گفتگو۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امورمیں تحفظ پاکستان ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا تاہم پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جے یوآئی (ف)اورجماعت اسلامی نے بل کی مخالفت کی ہے۔

ن لیگ کی تہمینہ دولتانہ اورمتحدہ کے آصف حسنین میں جھڑپ بھی ہوئی جس کے بعدارکان نے ماحول کوٹھنڈاکیا۔ قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے داخلہ امور کاان کیمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں چیئرمین راناشمیم کی زیرصدارت ہوا۔جس میں پی ٹی آئی،پیپلز پارٹی،جے یو آئی، جماعت اسلامی اورایم کیوایم نے بل کی مخالفت کی۔اجلاس میں ایم کیوایم کی جانب سے بل کی مخالفت کرنے پرتہمینہ دولتانہ اور آصف حسنین میں جھڑپ ہوئی،تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ جب بھی تحفظ پاکستان بل لایاجاتاہے تو ایم کیوایم مخالفت کیوں شروع کر دیتی ہے جس پرآصف حسنین نے کہا کہ جب بھی ایساکالا قانون لایا گیاہے وہ ایم کیوایم کیخلاف ہی استعمال کیا جاتاہے، ن لیگ نے جیلیں کاٹی ہوں تواسے پتہ ہو کہ جب کسی کو انتقام کا نشانہ بنانا ہو تواس کیساتھ کیا کچھ کیا جاتا ہے۔اس پر تہمینہ دولتانہ طیش میں آ گئیں اورکہاکہ کیا ن لیگ نے جیلیں نہیں دیکھیں ؟۔

اجلاس کے بعدصحافیوں سے گفتگو میں تحریک انصاف کے عارف علوی نے کہاکہ ہمیں ترمیم میں بھی بہت سی شقوں پر اعتراض ہے اسلیے ہم نے بھرپورمخالفت کی ہے اورجب یہ بل قومی اسمبلی میں لایاجائے گا تو تحریک انصاف کئی ترامیم کی تجاویزدے گی، آرمڈ فورسز کو شہریوں کو گرفتارکرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے، اس کے علاوہ حکومت جب چاہے گی کوئی کیس خصوصی عدالت میں منتقل کروا دے گی۔ جے یوآئی کے ارکان نے کہا کہ حکومت نے ہمیں اعتمادمیں نہیں لیا۔وزیرمملکت برائے داخلہ امور بلیغ الرحمن نے صحافیوں سے گفتگومیں کہا کہ ہم اتفاق رائے سے چندترامیم لائے ہیں،کوئی بھی قانون سازی آئین کیخلاف نہیں ہوگی۔