وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے غیر انسانی اور پرتشدد سلسلے ناقابل قبول، مذموم اور انسانی جان کے حوالے سے ان کی وحشیانہ فطرت کا عکاس ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغانستان کی جانب سے سرحد پر شہری علاقوں کو نشانہ بنائے جانے کو غیرانسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بہادر سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مکمل شکست کھانے اور ان کا سامنا کرنے کی ہمت نہ رکھنے کے بعد شہری علاقوں کو نشانہ بنانا نہ صرف قابل نفرت ہے بلکہ یہ رجیم کے رہنماؤں کے پست اخلاقی کردار کو بھی آشکار کرتا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر باجوڑ کے گزشتہ روز کے پریس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ صرف ضلع باجوڑ میں افغان طالبان اور ان کے بھارتی حمایت یافتہ پراکسی فتنہ الخوارج کی جانب سے شہری آبادی کو بلا اشتعال اور مجرمانہ طور پر نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے 6 معصوم بچوں اور خواتین سمیت 9 شہری شہید ہوئے جبکہ 7 خواتین اور ایک کم عمر بچے سمیت 12 افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ آج ایک مرتبہ پھر فتنہ الخوارج کی جانب سے کھلے عام اور شرم ناک انداز میں کواڈ کاپٹر کے ذریعے نشانہ بنانے کے نتیجے میں کرکٹ کھیلتے ہوئے تین شہری زخمی ہوئے، اس کے برعکس افغان طالبان رجیم کے نام نہاد نمائندے پاکستان پر شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے بے بنیاد اور لغو الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وضاحت اور شواہد سے یہ رپورٹ کیا جا چکا ہے کہ پاکستان صرف دہشت گردوں کے ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے، پاکستان افغان طالبان رجیم کے زیر کنٹرول علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور معاونت کرنے والے ڈھانچے کو جب بھی نشانہ بناتا ہے تو معلومات ہمیشہ فوری اور شفاف انداز میں عوام کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کے شہری نقصان سے بچنے کے لیے بھرپور احتیاط برتی جاتی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خارجی دہشت گردوں، ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف پاکستان کی جنگ ہمیشہ سچائی، اصولوں، عزت، عزم اور ایمان پر مبنی رہی ہے جبکہ خارجیوں اور ان کے بھارتی حمایت یافتہ سہولت کاروں کی ناپاک جنگ اور انجام شرم، فریب، لالچ اور برائی پر مبنی ہے۔