کیا ’کششِ ثقل‘ لیونارڈو ڈاونچی نے دریافت کی

ڈا ونچی کی نوٹ بکس کا دوبارہ جائزہ لیا گیا جس میں ڈاونچی نے کششِ ثقل کو بطور ایکسلریشن کی ایک قسم کےپیش کیا تھا


ویب ڈیسک February 16, 2023

مشہور اطالوی ہمہ دان لیونارڈو ڈا ونچی کے 16 ویں صدی کے ابتداء میں بنائے گئے خاکوں کے مشاہدے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ انہوں نے برطانوی ریاضی دان آئزک نیوٹن سے کافی عرصہ قبل کشش ثقل کو سمجھ لیا تھا۔

کیلیفورنیا اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین نے ڈا ونچی کی نوٹ بکس کا دوبارہ جائزہ لیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈا ونچی نے ایسے تجربے کیے تھے جس میں کششِ ثقل کو بطور اسراع (ایکسلریشن) کی ایک قسم کےپیش کیا گیا تھا جبکہ ان کا گریویٹیشنل کونسٹینٹ 97 فی صد درست تھا۔

محققین کی ٹیم کا ماننا ہے کہ ڈاونچی کے تجربات کو کششِ ثقل کے بیان سے محدود وسائل نے روک کر رکھا۔ان کے پاس وقت کی پیمائش کا آلہ موجود نہیں تھا جوکسی شے کے گرتے وقت استعمال کیا جاتا۔

(تصویر: برٹش لائبریری) (تصویر: برٹش لائبریری)

لیونارڈو ڈا ونچی (1452-1519) ان نظریات کی سمجھ میں اپنےوقت میں بہت آگے تھے، لہٰذا یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں اگر انہیں کششِ ثقل کا خیال آیا ہو۔

تاہم، 1604 میں گیلیلیو نے بتایا کہ گرتی ہوئی چیز کے فاصلہ طے کرنے کا تناسب اس عمل میں صرف ہونے والے وقت کے مربع کے برابر ہوتا ہے۔

بعد ازاں 17 ویں صدی کے آخر میں نیوٹن نے یونیورسل گریویٹیشن کے قانون کے متعلق بتایا جس میں یہ واضح کیا کہ اشیاء کس طرح ایک دوسرے کی جانب کھنچتی ہیں۔

مقبول خبریں