دودھ کی قیمتوں میں من مانے اضافے کیخلاف درخواست پر نوٹس

سرکاری نرخ فی لیٹر قیمت 70روپے ہے مگر دودھ فروش 84روپے لیٹر کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں، درخواست گزار


Staff Reporter April 12, 2014
سرکاری نرخ فی لیٹر قیمت 70روپے ہے مگر دودھ فروش 84روپے لیٹر کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں، درخواست گزار۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے دودھ فروشوں کی جانب سے قیمتوں میں من مانے اضافہ کے خلاف دائر درخواست پر میونسپل کمشنر اوردیگرکو5مئی کیلئے نوٹس جاری کردیے۔

یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن کے رانا فیض الحسن کی جانب سے دائردرخواست میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں سرکاری طور پر دودھ کی فی لیٹر قیمت 70روپت مقرر کی گئی ہے مگر دودھ فروش نے من مانااضافہ کردیا ہے اور فی لیٹر دودھ 80 روپے سے 84روپے فروخت کیا جارہا ہے جس سے غریب شہری براہ راست متاثر ہورہے ہیں،کراچی میں یومیہ 50لاکھ لیٹر دودھ کی کھپت ہے اور اس طرح شہریوں سے یومیہ 7کروڑ روپے اضافی وصول کیے جارہے ہیں۔

علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کی حیثیت سے اشرف محمود وتھرا کی تقرری کے خلاف دائر درخواست پر وزار ت خزانہ،اسٹیٹ بینک اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے5مئی کو جواب طلب کرلیا،جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے ٹرولائن انٹرنیشنل فائونڈیشن نامی این جی او کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی، درخواست میں موقف اختیا رکیا گیا ہے کہ 31 جنوری 2013کو گورنراسٹیٹ بینک یاسین انور کے مستعفی ہونے کے بعد یہ اسامی خالی ہوئی جس پر حکومت نے سنیئر افسران کو نظرانداز کرتے ہوئے اشرف وتھرا کو قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کردیا، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اشرف وتھرا کی تعیناتی کو غیر قانونی قراردیا جائے۔