فراہمی آب کا K4 منصوبہ حکومتی عدم دلچسپی سے التوا کا شکار

منصوبہ8 سال سے شروع نہ ہوسکا، ایکنک سے منصوبے کی منظوری حاصل کرکے پہلے فیز260 ایم جی ڈی پر کام جلد شروع کیا جائے


Staff Reporter April 13, 2014
آبادی بڑھنے اور حب ڈیم خشک ہونے سے شہر میں پانی کی قلت ہوگئی، کے فور منصوبے کے لیے5 ارب کی11ہزارایکڑ زمین حکومت سندھ فراہم کریگی. فوٹو : عرفان علی/ ایکسپریس/فائل

RAWALPINDI: وفاقی وصوبائی حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم K-4 منصوبہ 8 سال سے تاخیر کا شکار ہے۔

2 سال قبل پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام نے منصوبہ منظور کیا تھا جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے بھی کراچی کے لیے دریائے سندھ سے اضافی 650 ملین گیلن (ایم جی ڈی) پانی کا کوٹہ روزانہ کے لیے منظور کیا گیا تاہم منصوبے پر پیشرفت نہیں ہوسکی، ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی کے حکام کی کوشش ہے کہ اگلے ماہ ایکنک سے منصوبے کی منظوری حاصل کرکے انتظامی طور پر منصوبے کے پہلے فیز 260 ایم جی ڈی کا آغاز کردیا جائے پہلے فیز پر 29 ارب روپے لاگت آئے گی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کی آبادی میں اضافے اور حب ڈیم خشک ہوجانے سے شہر میں پانی کی قلت شدید ہوگئی ہے شہر کے کئی علاقوں میں قلت آب کے باعث نوبت ہنگامہ آرائی تک پہنچ گئی ہے، محکمہ نکاسی و فراہمی آب کراچی نے اضافی پانی کے حصول کا یہ منصوبہ 2006 میں تیار کیا تھا تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے فوری طور کے فور منصوبے کیلیے دریائے سندھ سے اضافی 1200 کیوسک (650 ایم جی ڈی) پانی کا کوٹہ مختص نہ کیے جانے کے باعث اسے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کمیشن میں جمع نہیں کرایا جاسکا۔

واضح رہے کہ سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کے دور میں واٹر بورڈ نے منصوبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی(ارسا) سے درخواست کی کہ دریائے سندھ سے کراچی کیلیے مزید1200 کیوسک پانی کا کوٹہ مختص کیا جائے تاہم ارسا نے کوٹے میں اضافے سے انکار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو تجویز دی کہ سندھ حکومت اپنے کوٹے سے کراچی کو اضافی 1200 کیوسک پانی فراہم کرے، وفاقی وصوبائی حکومت کے مابین اس تنازع میں 6 سال ضائع ہوگئے اس دوران شہر کی آبادی میں ہوشربا اضافہ ہوگیا، شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی کی قلت شدید ہونے پر صوبائی حکومت نے دریائے سندھ سے پانی کے اپنے حصے سے1200 کیوسک (650ایم جی ڈی) پانی کی فراہمی منظور کرلی، اسی دوران پی ایس ڈی پی نے بھی منصوبہ منظور کرلیا جس کے تحت میگا منصوبے کے پہلے فیز کی لاگت 50 فیصد وفاقی اور50 فیصد صوبائی حکومت برداشت کررہی تھی۔

سندھ حکومت کو زمین کی خریداری کیلیے 5 ارب روپے صوبائی خزانے سے ادا کرنے تھے، منصوبے کے پہلے فیز پر مجموعی لاگت29 ارب ہے جس میں کے فور کے انفراسٹرکچر کے اخراجات24 ارب جبکہ زمین کی خریداری کے لیے 5 ارب روپے تخمینہ لگایا گیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ منصوبہ 3 مراحل میں 2025 تک تعمیر کیا جائے گا جبکہ پہلا فیز260 ملین گیلن پانی روزانہ2017 تک مکمل کیا جانا ہے تاہم اس کیلیے ضروری ہے کہ یہ منصوبہ ایکنک سے جلد منظور کرالیا جائے، دریائے سندھ سے کراچی کے لیے 1200 کیوسک پانی مختص تھا، جسے مختلف ادوار میں کینجھر گجو کینال سے گھارو کے راستے کراچی تک پہنچایا گیا، کراچی واٹر سپلائی اسکیم K-3 منصوبے کی تکمیل2006 میں ہوئی جس کے بعد دریائے سندھ سے کراچی کے لیے مختص 1200 کیوسک کا کوٹہ مکمل طور پر استعمال میں لایا جانے لگا۔

ذرائع نے بتایا کہ2002 میں صوبائی حکومت کی تشکیل کردہ جوائنٹ کمیٹی میں محکمہ آبپاشی ، منصوبہ بندی و ترقیات اور ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی شامل تھے کی سفارشات اور کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کی پانی کی ضرورت مدنظر رکھتے ہوئے 2025 تک اضافی 1200 کیوسک پانی دریائے سندھ سے فراہم کیا جانا ہے، بعدازاں 2008 میں جائیکا نے کراچی میں اسٹڈی کرتے ہوئے سفارشات مرتب کیں کہ کراچی میں سالانہ 4.5 فیصد آبادی میں اضافہ ہورہا ہے لہذا کراچی کیلیے 1200 کیوسک اضافی پانی کے منصوبے پر فوری طور پر عمل کیا جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ جب 2006 میں کے تھری منصوبے کے ذریعے100ایم جی ڈی پانی کی فراہمی شروع کی گئی اس وقت42 گیلن پانی ماہانہ کی شرح تھی، تاہم8 سال میں پانی کی فراہمی میں ایک بوند کا اضافہ نہ ہونے اور سالانہ6 لاکھ 75ہزار افراد کی آبادی میں اضافے کے باعث اب یہ شرح 35 گیلن ہوگئی ہے، کے فور منصوبے کا پہلا فیز 260 ایم جی ڈی پانی کا ہے، دوسرا فیز260ایم جی ڈی اور تیسرا فیز 130ایم جی ڈی پر مشتمل ہے، منصوبے کے لیے 11 ہزار ایکڑ زمین درکا ر ہے، جس میں5 ہزار ایکڑ زمین ضلع ٹھٹھہ جبکہ 6 ہزار ایکڑ زمین گڈاپ، کیماڑی اور بن قاسم میں صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔

ذرائع کے مطابق کے فور منصوبے کی منظوری پی ایس ڈی پی اور حکومت سندھ نے 2 سال قبل دی تھی تاہم اس کے بعد یہ منصوبہ سرخ فیتے کا نذر ہوگیا اور فنڈز کا عدم اجرا اور انتظامی منظوری نہ ہونے سے منصوبے شروع نہیں ہوسکا،ذرائع نے بتایا کہ اگر یہ منصوبہ بروقت مکمل نہ ہوا تو کراچی اسپیشل ڈیولپمنٹ پلان کا وژن2020 مکمل طور پر ناکام ہوجائے گا، اس وقت کراچی نادرن بائی پاس، سپرہائی وے پر ڈی ایچ اے کی نئی ہائوسنگ اسکیم، ایم ڈی اے کا رہائشی منصوبہ ، ایجوکیشن سٹی ، نئے صنعتی منصوبوں، شاہ لطیف ٹائون، دیہہ ہلکانی منصوبہ اور دیگر رہائشی منصوبوں پر اربوں روپے کے ترقیاتی کام ہورہے ہیں تاہم پانی کی عدم دستیابی سے یہ تمام منصوبے ناکام ہوجائیں گے۔