ملتان زہریلی شراب سے18سالوں میں ہزاروں افراد ہلاک ایک بھی ملزم کو سزا نہ ملی

1996-97 میں بارہ گھوڑے والے،2001-2ء، 2005-06 میں اسرار شیرازی،2009ء میں محبوب، رمضان، یونس قاتل سپلائر تھے.


Numainda Express April 16, 2014
جیل میں قید خالد عرف سین والا کے کارندے 2 نمبرشراب سپلائی کر رہے ہیں، حکومت واضح لائحہ عمل کا اعلان کرنے میں ناکام فوٹو: فائل

ملتان سے زہریلی شراب کی سپلائی سے 18 سال قبل شروع ہونے والا ہلاکتوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

1996-97 ، 2005-06 اور پھر 2009 میں زہریلی شراب پینے کے باعث بڑے پیمانے پرہلاکتیں ہوئیں۔ درجنوں افراد بینائی گنوا بیٹھے ہر بارشراب فروشوں کے نئے گروپ سامنے آئے تاہم زیادہ ہلاکتیں ایک بدنام شیرازی نامی شخص کی سپلائی کے باعث ہوئیں۔ ہلاکتوں کا اندازہ 2 ہزار کے قریب لگایا جا رہا ہے جبکہ متاثرین کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن آج تک کسی بھی ملزم کو سخت سزا نہیں مل سکی۔

ملتان شہر میں ہلاکتوں کا سلسلہ1996-97 میں اس وقت شروع ہوا جب اندرون شہر کے بدنام منشیات فروشوں جن میں بارہ گھوڑے والوں کا نام آیا تھا کی سپلائی کردہ شراب جو کہ پلاسٹک بوتل میں تھی 18 کے قریب ہلاکتیں منظر عام پر آئیں، مرنے والوں میں زیادہ تعداد اندرون شہر کے لوگوں کی تھی، 18ہلاکتیں ایسی تھیں جنھیں اسپتال علاج کے لیے لایا گیا تھا جبکہ درجنوں ایسی ہلاکتیں بھی ہوئیں جن کے ورثا نے عزت کے ڈر سے ہلاکت کی وجہ بھی نہیں بتائی۔ اس بڑے سانحے کے خلاف اس وقت احتجاج ہوا اور ہڑتال بھی کی گئی تھی۔ مقدمہ تھانہ لوہاری گیٹ میں درج کیا گیا تاہم بعد ازاں تمام مرنے والوں کے ورثا نے نامزد ملزمان کو معاف کرنے کے بیانات پولیس کو جمع کرا دیے تھے۔

2001-02 میں دوبارہ شراب پینے کے باعث ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں صرف 2 دن کے اندر 39 افراد نشتر اسپتال کے ریکارڈ کے مطابق زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے تاہم درجنوں ایسے بھی تھے جو شراب پی کر گھروں میں سوئے اور صبح ان کی لاشیں ملیں یہ ہلاکتیں ایک الکوحل کے لائسنس یافتہ ملزم اسرار شیرازی نامی شخص کی سپلائی کردہ شراب کے باعث ہوئیں۔ ایک کمپنی کی پلاسٹک کی بوتلوں میں الکوحل سے تیار کردہ شراب کے باعث یہ ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتوں کا معاملہ 2005-06 میں سامنے آیا اور تعداد 90 کے قریب رہی یہ شراب بھی اسرارشیرازی کی سپلائی کردہ بتائی گئی اور انکشاف ہوا کہ اسرار شیرازی نے پکڑی گئی الکوحل کے ڈرم 6 ماہ بعد سپرداری پر حاصل کیے تھے ۔

جن کے ذریعے تیار کرائی گئی شراب نے کئی گھروں کے چراغ بجھا دیے۔ 6 ماہ تک یہ الکوحل مال خانہ میں رکھی گئی تھی اور مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث الکوحل زہریلی ہو گئی تھی الکوحل کا لائسنس یافتہ اسرار شیرازی دوا کی تیاری کی آڑ میں فیکٹری کے اندر شراب بنا کر پورے شہر اور گردونواح میں فروخت کرتا رہا ان ہلاکتوں کے بعد بھی ذمے داروں کے تعین میں پولیس کامیاب نہیں ہو سکی اور قانونی دائو پیچ کھیل کر اسرار شیرازی دوبارہ آزاد ہو گیا اور ایک عرصے تک سپلائی کا دھندہ چلاتا رہا تاہم چند افسروں کی طرف سے سختی کے بعد اسے مجبوراً شہر چھوڑ کر جانا پڑا۔

2009 میں ایک بارپھر شراب پینے سے ہلاکتوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا اور80 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں اس بار شراب سپلائی کرنے والے محبوب عرف صدر، رمضان عرف چیئرمین، کرنل قذافی اورکانسٹیبل یونس کے نام سامنے آئے اس بار پولیس نے مقدمات میں قتل کی دفعات شامل کر دیں تاہم معاملات اب تک چل رہے ہیں۔ 18 برسوں کے دوران ہر سال زہریلی شراب سے ہلاکتوں کے معاملات سامنے آتے رہتے ہیں تاہم ہمارے سرکاری محکمہ اس وقت معاملات کا نوٹس نہیں لیتے جب تک ہلاکتوں کی تعداد درجنوں سے سیکڑوں تک نہیں چلی جاتی۔ اس مسئلہ کے مستقل حل کے لیے حکومت نے نہ تو کوئی قانون سازی کی ہے جبکہ نہ ہی واضح لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے۔ ان دنوں بدنام منشیات فروش خالد عرف سین والا جو 40 سے زائد مقدمات کے باعث جیل میں ہے کے کارندے ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر میں 2 نمبر شراب کی سپلائی کر رہے ہیں۔