گستاخانہ فلم کیخلاف حیدرآباد میں شدید احتجاج مظاہرے اور ریلیاں 

مسلمان اپنی جانیں قربان کرکے بھی حضورؐ کی ناموس کی حفاظت کریں گے،مظاہروں سے مقررین کا خطاب۔


Numainda Express September 17, 2012
حیدرآباد: توہین آمیز فلم کیخلاف مذہبی، سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے ریلی نکالی جارہی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

امریکا میں بنائی گئی گستاخانہ فلم کیخلاف حیدرآباد میں دن بھر احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

توہین آمیز اور گستاخانہ فلم کے خلاف حیدرآباد میں تیسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں ، شرکا حکومت سمیت امریکا اور گستاخانہ فلم کے ڈائریکٹر کیخلاف نعرے لگاتے رہے۔ مشتعل افراد نے فلم ڈائریکٹر اور ٹیری جونز کے علامتی پتلے، امریکا اور اسرائیل کے پرچم بھی نذر آتش کیے۔

جماعت اہلسنت، مجلس عمل اہلسنت والجماعت، تنظیم خادم انسانیت، جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، تحریک انصاف، حیدرآباد گلاس بینگل ڈیلرز، انجمن تاجران ریشم بازار، انجمن تاجران نیو جامع کلاتھ مارکیٹ فقیر کا پڑ، انجمن جامع کلاتھ مارکیٹ لطیف آباد، انجمن تاجران موبائل سٹی مارکیٹ تارا چند، انجمن تاجران کھوکھر محلہ سمیت شہر یوں نے گستاخانہ فلم کیخلاف مظاہرے کیے، جبکہ جماعۃ الدعوۃ، اسلامی جمعیت طلبہ، مسیحی برادری، ینگ ہندو پنچایت، سمیت مختلف علاقوں کے نوجوانوں نے ریلیاں نکالیں جو شہر کی شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پر اختتام پذیر ہوئیں۔

شرکاء نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنمائوں عبدالوحید قریشی، شیخ شوکت، مشتاق احمد خان، جماعۃ الدعوۃ کے فیصل ندیم، سید راشد حسین رضوی، مولانا آغا محمد قمبرانی، بشپ جے راوڈ ریکس، فادر سیمسین، پادری ڈینئل فیاض، ڈاکٹر دلپ دولتانی، جے کمار دیرانی، دلدار حسین نقشبندی،عارف عطاری و دیگر نے کہا کہ توہین آمیز فلم سے دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوںکے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

مغرب نے توہین آمیز فلم بناکر اسلام اور رسولؐ کیخلاف تعصب کا اظہارکیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہودی ڈائریکٹر اور پادری ٹیری جونز نے انسانیت دشمن کام کیے جس میں ان کی سرپرستی کرنے والے ممالک بھی برابر کے مجرم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حضرت محمدؐ سے محبت مسلمان کے ایمان کی بقاء کے لیے ضروری ہے اور مسلمان اپنی جانیں قربان کرکے بھی حضورؐ کی ناموس کی حفاظت کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا اور یورپ مذہب اسلام کے وہاں تیزی سے پھیلنے والے باعث بوکھلاٹ کا شکار ہیں۔ پوری دنیا کے مسلمان گستاخانہ فلم کیخلاف سراپا احتجاج ہیں لیکن امت مسلمہ کے حکمرانوں کی جانب سے عالمی سطح پر آواز نہ اٹھانا قابل مذمت ہے۔

انھوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ فلم کیخلاف سرکاری سطح پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا جائے اور امریکی سفیر کو ملک بدر کرتے ہوئے سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں، جبکہ اقوام متحدہ گستاخانہ فلم کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر فی الفور پابندی عاید کریں۔ علاوہ ازیں بھٹ شاہ میں توہین آمیز فلم کے خلاف شٹر بند ہڑتال کی گئی جبکہ جے یو آئی، دعوت فکر اور دیگر سیاسی، سماجی تنظیموں نے ریلیاں نکالیں۔ نوابشاہ، ٹنڈو الہیار، کنری، ڈگری اور دیگر شہروں میں بھی اسلام مخالف فلم کیخلاف مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔