شوگر ملز کی ٹیکس مراعات ختم اضافی چینی کی برآمد بند ہونیکا خطرہ

شوگرملوں کو چینی کی برآمدات پر دی جانے والی ایک روپے فی کلوگرام کی ان لینڈ سبسڈی واپس لے لی گئی.


Ehtisham Mufti May 02, 2014
شوگرملوں کو چینی کی برآمدات پر دی جانے والی ایک روپے فی کلوگرام کی ان لینڈ سبسڈی واپس لے لی گئی. فوٹو: فائل

وزارت تجارت کی جانب سے چینی کی برآمدات پر دی جانے والی مراعات ختم کرنے کے باعث مقامی شوگرملوں کے پاس موجود سرپلس چینی کی برآمدات بند ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

شوگرانڈسٹری کے باخبر ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے حال ہی میں مقامی شوگرملوں کو2.5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس بار برآمدکنندگان کو حکومت کے منظورشدہ مقدار کی چینی کوبغیرکسی حکومتی ترغیب کے برآمد کرنا ہوگی۔ وزارت تجارت کی جانب سے اس ضمن میں جاری ہونے والے ایس آراو کے مطابق شوگرملوں کو چینی کی برآمدات پر دی جانے والی ایک روپے فی کلوگرام کی ان لینڈ سبسڈی واپس لے لی گئی ہے۔ اس ایس آراو میں شوگرملوں کو2.5 لاکھ ٹن چینی پہلے آئیے اور پہلے پائیے کی بنیاد پر برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ایس آراومیں چینی کی برآمد پرسبسڈی کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی ترغیب دینے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شنید قریشی نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پربتایاکہ چند سال قبل تک وفاقی حکومت چینی کی برآمدات پر 1.75 روپے فی کلوگرام پران لینڈ سبسڈی اور دیگر ٹیکس مراعات فراہم کررہی تھی۔ ان ٹیکس مراعات کے تحت چینی کی مقامی فروخت پر فیڈرل ایکسائزڈیوٹی 0.8 فیصد کے بجائے 0.5 فیصد وصول کیے جاتے تھے مگر یہ ٹیکس مراعات صرف اتنی مقدار کے لیے مقرر کی گئی تھی جتنی مقدارمیں چینی ایکسپورٹ کی جاتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال حکومت نے ستمبر2013 میں ان لینڈ سبسڈی 1.75 روپے فی کلوگرام سے کم کرکے ایک روپیہ کردی تھی جبکہ حالیہ 2.5 لاکھ ٹن کے ساتھ اس سبسڈی اور ٹیکس مراعات کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شوگرملیں پہلے ہی مالی مسائل کا شکار ہیں جو بغیرسبسڈی کے چینی برآمد کرنے کی سکت نہیں رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سال میں مجموعی طور پر1.5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرکے حکومت کے خزانے میں750 ملین ڈالر کا زرمبادلہ آیا ہے لیکن بغیر سبسڈی کے مزید چینی کی برآمد ممکن نہیں ہے۔ شنید قریشی نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کی سطح پر وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکوزمینی حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے وقت طلب کیا گیا ہے تاکہ شوگرانڈسٹری کے مسائل حل کرائے جاسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی چینی کی مشرق وسطیٰ اور تمام افریقی ممالک میں ڈیمانڈ موجود ہے اور پاکستان کے پاس چینی کے فاضل ذخائر بھی دستیاب ہیں اگر پاکستان سے5 لاکھ ٹن چینی کی ایکسپورٹ ہوجائے تو تقریبا300 ملین ڈالر کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال ملک میں5.2 ملین ٹن چینی کی پیداوار ہوئی ہے جبکہ چینی مقامی کھپت 4.2 لاکھ ٹن ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں شنید قریشی نے بتایا کہ رواں سال ماہ رمضان المبارک کے دوران ملک میں چینی کا کوئی بحران نہیں ہوگا اور نہ ہی چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

مقبول خبریں