راشد لطیف نے سلیم ملک پر پابندی ختم کرنے کی حمایت کر دی

جب دیگر الزام یافتہ کھلاڑی کھیل سے وابستہ ہوسکتے ہیں تو پھر سلیم ملک کو بھی رعایت ملنی چاہیے،راشد لطیف


Sports Reporter May 02, 2014
جب دیگر الزام یافتہ کھلاڑی کھیل سے وابستہ ہوسکتے ہیں تو پھر سلیم ملک کو بھی رعایت ملنی چاہیے،راشد لطیف۔ فوٹو: فائل

راشد لطیف کا دل پسیج گیا، انھوں نے سلیم ملک پر پابندی ختم کرنے کی حمایت کر دی ہے،ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی اور پی سی بی نے جسٹس قیوم رپورٹ کا مکمل طور پر اطلاق نہیں کیا، جس کی وجہ سے عطا الرحمان کو چھٹکارہ مل گیا۔

اگر مختلف الزامات کے باوجود دیگر کئی کھلاڑی نجی لیگز میں شرکت اور کرکٹ بورڈز میں نوکریاں کرسکتے ہیں تو سلیم ملک کو بھی رعایت ملنا چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق راشد لطیف نے 1995کے دورئہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے میں پہلی بار میچ فکسنگ کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے سلیم ملک اور ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں پر کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے، آسٹریلوی کرکٹرز شین وارن، ٹم مے اور مارک وا نے بھی انکشاف کیا کہ سلیم ملک نے انھیں1994 میں کم تر کارکردگی پیش کرنے کیلیے رشوت کی پیشکش کی تھی، پنڈورا باکس کھلنے کے بعد حکومت نے انکوائری کیلیے 1998میں جسٹس قیوم کمیشن قائم کیا جس نے 2سالہ تحقیق کے بعد سلیم ملک اور عطا الرحمان پر تاحیات پابندی لگا دی، وسیم اکرم، وقار یونس،مشتاق محمد، سعیدانور، انضمام الحق اور اکرم رضا پر جرمانے کیے گئے۔

مشکوک کرکٹرز کو بورڈ میں عہدے دیے جانے کے واضح امکانات کو دیکھتے ہوئے ہی راشد لطیف نے چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا، البتہ اب انھوں نے سلیم ملک کو بھی چھوٹ دینے کی حمایت کردی ہے،سابق کپتان نے بدھ کو چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سے ملاقات میں نام آئی سی سی سے کلیئر کرانے میں مدد کی درخواست کی تھی۔اس حوالے سے راشد لطیف نے غیرملکی خبررساں ایجنسی کو انٹرویو میںکہا کہ سلیم ملک پر پابندی کو 14سال ہوگئے،اس عرصے میں وہ کھیلے نہ ہی کوچنگ سے وابستہ ہوئے،آئی سی سی اور پی سی بی نے جسٹس قیوم رپورٹ کا مکمل طور پر اطلاق نہیں کیا جس کی وجہ سے عطا الرحمان کو چھٹکارہ مل گیا، انھوں نے کسی کرکٹر کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر مختلف الزامات کے باوجود دیگر کئی کھلاڑی نجی لیگز اور کرکٹ بورڈز میں نوکریاں کرسکتے ہیں تو سلیم ملک کو بھی رعایت ملنی چاہیے۔

مقبول خبریں