30برس سے زیر التوا شناختی کارڈ چوری کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ

فیصلہ کل سنایا جائیگا،عدالت،موکلوں کی جوانی عدالتوں میں چکر لگاتے ہوئے گزری،2 ملزم انتقال کرگئے،وکیل


Staff Reporter May 06, 2014
ہزاروں خواتین کے قومی شناختی کارڈ چوری کرنے کا جرم ثابت ہوچکا ہے،ملزمان کو سزا دی جائے، وکیل سرکار ۔ فوٹو: فائل

30برس سے زیر التوا مقدمے کا بلآخر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

پیر کو انسداد بدعنوانی کی وفاقی عدالت کے جج محمد عظیم نے30برس سے زیرالتوا ہزاروں خواتین کے قومی شناختی کارڈ چوری کرنے کے مقدمے کا فیصلہ طرفین وکلا کے حتمی دلائل مکمل ہونے پر 7مئی کے لیے محفوظ کرلیا، سماعت کے موقع پر وکیل صفائی شہادت اعوان نے اپنے حتمی دلائل میں عدالت کو بتایا کہ مقدمہ30برس سے زیر سماعت ہے،ان کے موکلوں کی جوانی عدالتوں میں چکر لگاتے ہوئے گزری ،وہ بڑھاپے کی عمر میں پہنچ گئے ہیں جبکہ2ملزمان کی طبی موت ہوچکی ہے،تفتیشی افسر بھی اس دنیا سے کوچ کرچکا، ایک ملزم سکندر فالج کے باعث مقامی اسپتال میں زیر علاج ہے لیکن طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود استغاثہ ان کے موکلوں کے خلاف کوئی شواہد پیش نہیں کرسکا۔

ایف آئی اے نے ملزم غلام حیدر کے گھر میں چھاپہ مار کر ہزاروں شناختی کارڈ اورپاسپورٹ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اسے تاحال گرفتار نہیں کیا جبکہ انچارج مسعود جس کی نگرانی اور تحویل میں قومی شناختی کارڈ تھے اسے ملزم بنایا گیا اور نہ ہی استغاثہ کا گواہ بنایا گیا جو کہ ایف آئی اے کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے، ان کے موکل بے گناہ ہیں، وکیل صفائی نے کہا کہ ان کے موکلوں کو ذہنی اور مالی پریشانی کا سامنا رہا جس کا مدوا بھی کیا جائے، دوسری جانب وکیل سرکار نے اپنے دلائل میں عدالت کوبتایا کہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت ہے انھیں سزا دی جائے، اس موقع پر ملزم ملک جان محمد اور حیات اعوان عدالت میں موجود تھے۔