مدعی اور ملزمان کے بیانات میں تضاد ہےڈی آئی جی عبدالخالق شیخ

پولیس محافظ قانون کے مطابق تحفظ کیلیے دیا جاتاہے،واقعے میں پولیس کاغلط استعمال ہوا


Staff Reporter May 13, 2014
بنگلے میںہلاکتوں کی تفتیش جاری ہے،پولیس محافظ ساتھ لیکر چلنے کارواج ختم کردینگے ۔ فوٹو : فائل

سلیمان لاشاری قتل کیس میں مدعی اور ملزمان کے بیانات میں تضاد سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔

واقعے میں پولیس اہلکاروں کا شامل ہونا غلط تھا،تفصیلات کے مطابق درخشاں کے علاقے ڈیفنس فیز 5 خیابان شمشیر میں بنگلے پر ایس پی ٹریننگ سینٹر سکرنڈ غلام سرور ابڑو کے بیٹے سلمان ابڑو اور اس کے دوست سلیمان لاشاری کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں سلیمان لاشاری جاں بحق اور ایک پولیس اہلکار ظہیر ہلاک ہوگیا تھا،پولیس نے واقعے میں ملوث سلمان ابڑو کے 4 محافظ پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے تحقیق شروع کردی تھی، اس سلسلے میں ڈی آئی جی جنوبی عبدالخالق شیخ کا کہنا ہے کہ مذکورہ مقدمے میں مدعی اور ملزمان کے بیانات میں تضاد سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔

مدعی کا کہنا ہے کہ بنگلے میں ان پر اچانک حملہ کیا گیا اور سلمان ابڑو اپنے محافظوں کے ساتھ حملے کی غرض سے آیا تھا جبکہ دوسری جانب ابڑو فیملی کا کہنا ہے کہ سلیمان لاشاری کو جھگڑے کے تصفیے کے لیے بلایا گیا تھا، پولیس دونوں طرفین کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد تفتیش کررہی ہے، ڈی آئی جی جنوبی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ واقعے میں پولیس اہلکاروں کو غلط استعمال کیا گیا ہے ۔

پولیس کے سپاہی کسی بھی شخص کو قانون کے مطابق سیکیورٹی کے لیے دیے جاتے ہیں لیکن مذکورہ واقعے میں پولیس کا غلط استعمال کیا گیا ہے، بنگلے پر حملے اور ہلاکتوں کی تفتیش جاری ہے اور ذمے داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، ڈی آئی جی عبدالخالق شیخ نے کہا کہ ہم پولیس سپاہی ساتھ لے کر چلنے کے کلچر کے خاتمے پر غور کررہے ہیں۔