ایس ایچ او سٹی کورٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

عدالت نے محکمانہ کارروائی اور اس کی نقل وحرکت کی تحقیقات ڈی ایس پی لیول کے افسر سے کرانے کا حکم دیدیا


Staff Reporter May 14, 2014
اغوا میں ملوث رینجرز کے سب انسپکٹر کی ضمانت منسوخ، ملزم کی فرار ہونے کی کوشش پولیس نے ناکام بنادی.

ایس ایچ او تھانہ سٹی کورٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے اور نقل و حرکت کی تحقیقات ڈی ایس پی عہدے پر تعینات پولیس افسر سے کرانے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی احمد صبا نے نصیر احمد کی درخواست پر ایس ایچ او کے خلاف مدعی کے بیان کے مطابق فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا اور ایس ایس پی جنوبی کو ایس ایچ او کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے اور اس کی تمام نقل و حرکت اور کارگردگی کی تحقیقات ڈی ایس پی کے عہدے پر تعینات پولیس افسر سے کرانے کی ہدایت کی ہے ، قبل ازیں درخواست میں موقف اختیار کیا گیاتھا کہ وہ اپنے کام کے سلسلے میں تھانے گیا تھا، تھانے میں ایس ایچ اوجرائم پیشہ افراد جنھیں سٹی کورٹ میں اسلحہ سمیت گرفتار کیا گیا تھا ان کے ہمراہ لین دین میں مصروف تھا، نشے میں دھت افسر نے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور دھکے دے کر تھانے سے نکال دیا تھا، درخواست میں ایس ایچ او کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور مکمل طورپر اس کی نقل وحرکت کی تحقیقات کرانے کی استدعا کی گئی تھی۔

علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو نے اغوا برائے تاوان کے الزام میں ملوث رینجرز کے سب انسپکٹر ریاض ٹمن کی عبوری ضمانت منسوخ کردی، ملزم کی فرار ہونے کی کوشش پولیس نے ناکام بناتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا، فاضل عدالت نے ملزم کو جیل بھیج دیا،استغاثہ کے مطابق31 جولائی 2010کو سینٹرل جیل سے متصل ملازمین کی کالونی میں نامعلوم افراد ہائی روف میں مسلح داخل ہوئے اور کالونی کے رہائشی حوالدار لالہ امین، شیراز، غازی خان اور شیر افضل کو اغوا کرلیا تھا، بعدازاں اہل خانہ نے کئی جگہ تلاش کیا پولیس میں بھی رپورٹ درج کرائی تاہم کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔

رینجرز انسپکٹر شیر افسر اورسب انسپکٹر رینجرز ریاض ٹمن نے ان افراد کی رہائی کیلیے تاوان طلب کیا تھا ایک لاکھ روپے تاوان وصول کرتے ہوئے رینجرز حکام نے ہی شیر افسرکو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا، اور ہائی کورٹ میں تاوان کی حاصل کردہ رقم جمع کرائی تھی، ریاض ٹمن موقع سے فرار ہوگیا تھا اور عدالت عالیہ سے عبوری ضمانت منظور کرائی تھی، عدالت عالیہ نے ماتحت عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی، منگل کو ملزم عبوری ضمانت کی توثیق کیلیے پیش ہوا تھا تاہم فاضل عدالت نے ضمانت منسوخ کردی تھی۔