مودی سرکا راور پاکستانیوں میں پھیلی تشویش کی لہر

میرے خیال میں پاکستانیوں کے لیے بظاہر ایک ناخوشگوار نظر آنے والی مودی سرکار حیران کن حد تک اچھی خبر بھی ہو سکتی ہے۔


میرے خیال میں پاکستانیوں کے لیے بظاہر ایک ناخوشگوار نظر آنے والی مودی سرکار حیران کن حد تک اچھی خبر بھی ہو سکتی ہے۔ فوٹو فائل

KARACHI: مودی سرکار کی شاندار فتح نے ایک طرف تو بھارت میں شاندار جشن کا سماں باندھ رکھا ہے تو دوسری طرف مودی صاحب کی ہوم اسٹیٹ سے جڑے پاکستان میں عمومی طور پرتشویش پیدا کر دی ہے۔پاکستان میں اسلام پسندوں اور سیکولرکی آپس میں بڑھتی خلیج کے باوجود دونوں طبقات بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتنی شاندار پرفارمنس کے لئے نہ ذہنی طور پر تیار تھے اور نہ دعا گو۔ مذہبی طبقات تو مودی گورنمنٹ کو انڈیا میں بسے مسلمانوں کے لئے ایک خطرے سے تشبیہ کر رہے تھے جبکہ اسلام پسند اسے بھارت میں ہندو راج کے علاوہ کوئی اورنام دینے کو تیار نہیں ہیں-پاکستان میں مشکلات کا شکارلبرل اور سیکولر طبقہ بھی'مودی ویو' کے اثرات کو خوش دلی سے قبول نہیں کر پارہا- مگر دونوں ممالک میں ہونے والے واقعات کےسرحد پار اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنہا اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آنے کے بعد اُسے حاصل ہونے والی 'خودمختاری' بھی بذات خود ایک خطرہ نظر آرہی ہے ۔

نتائج پر ایک نظر ڈالی جائے تو گجرات، راجھستان ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈاور دہلی کی ریاستوں نے بی جے پی کو یک طرفہ سپورٹ فراہم کی ہے تو اُتر پردیش ، آسام، بہار، مہاراشٹرا ، ہریانہ، جھاڑکھنڈ، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ نے واضح بی جے پی کی اکثریت کے حصول کو یقینی بنا دیا ہے۔ کیرالہ، مشرقی بنگال، تامل ناڈو اور اڑیسہ میں مودی کی لہر قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی- جبکہ مشرقی بنگال نے ممتا بینرجی پر ایک بار پھر اعتماد ظاہر کیا ہے تو تامل ناڈو نے جئے للیتا کو قریباکلین سویپ کروایا ہے- دوسری طرف نوین پٹنیک کی جماعت اڑیسہ کے نتائج پر قابض رہی ہے تو کیرالہ نے روایت پسند ریاست ثابت کرتے ہوئے کانگریس اور کیمونسٹوں پر بھروسا جاری رکھا ہے۔ منی پور، میزورام، سکم، منگھالیہ اور ناگالینڈ جیسی چھوٹی ریاستیں بھی فی الحال مودی ویو کے دائرہ اثر سے باہر نظر آتی ہیں۔

مایا وتی، نتیش کمار، ملائم سنگھ یادیو اور لالو پرشاد یادیو کے لئے بھی انتخابات کے نتائج ایک ڈراونا خواب ہی ثابت ہوئے ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاست نے فاروق عبداللہ کی پارٹی کا جنازہ نکال دیا ہے اور بی جے پی کو چھ میں سے تین سیٹوں پرجو کامیابی ملی ہے، وہ شاید بہت سے پاکستانیوں کے لئے حیران کن ہو-

تبدیلی کا نعرہ بلند کرتی 'عام آدمی پارٹی' پنجاب سے غیر متوقع طور پر چار سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے مگردہلی جہاں پر 40 دن کی حکومت بھی 'آپ' کو نصیب ہوئی تھی، وہاں سے ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ جس کی ایک بڑی وجہ کیجریوال کے استعفے کو گردانا جا رہا ہے کہ کیونکہ انہوں نے صرف نعروں اور الزام تراشی تک ہی سیاست کی۔آندھرا پردیش میں تلنگانہ کے قیام کو کانگریس کی شکست کا سبب گردانا جا رہا ہے تو وائی ایس آر کانگریس تیزی سے انڈین نیشنل کانگریس کی جگہ لیتی نظر آ رہی ہے-

میرے خیال میں پاکستانیوں کے لیے بظاہر ایک ناخوشگوار نظر آنے والی مودی سرکار حیران کن حد تک اچھی خبر بھی ہو سکتی ہے۔بی جے پی کے ماضی کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو واجپائی دور حکومت میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہت بہتری آگئی تھی- پاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانے یا کم سے کم نارمل رکھنے کے لئے جہاں ایک طرف مودی پر کاروباری طبقے کا پریشر ہو گا۔

تو دوسری طرف مودی سرکار کو ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے کم دباو کا سامنا ہو گا۔ دوسری طرف خوش قسمتی سے بھارت سے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش پر پاکستان میں بھی نواز لیگ کی حکومت کو مذہبی طبقے کی طرف سے اُس دباو کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جو ایسی کسی کوشش پر پیپلز پارٹی کےحصے میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں نواز لیگ بھی تاجر کمیونٹی کی ہم خیال سمجھی جاتی ہےاور تاجر برادری بھارت سے تعلقات کو حد درجہ بہتر بنا کر فائدہ اُٹھانے کی خواہش مند ہے۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر اگر تجزیہ کیا جائے تو مودی کے برسر اقتدار آنے سے پاکستانی عوام میں پائے جانے والی تشویش کو بے جا گردانتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے بیچ اچھے مستقبل کی اُمید کی جانی چاہیے۔ اور نواز شریف کی طرف سے نریندر مودی کو کی جانے والی مبارکباد کی کال اور دورہ پاکستان کی دعوت کو بھی اس تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں