حکومت قومی سلامتی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے کوشاں

اگلے مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 2810 ارب روپے مقرر کرنے پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے، وزارت خزانہ


Irshad Ansari May 21, 2014
اگلے مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 2810 ارب روپے مقرر کرنے پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے، وزارت خزانہ فوٹو : فائل

JAKARTA: اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی اورجمہوری تسلسل اور آئین کی پاسداری لازم و ملزوم ہیں۔

آج وطن عزیز کو جن قومی و بین الاقوامی مسائل کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کیلئے جہاں مضبوط و موثر خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے، وہیں آپس میں باہمی تعاون اور محبت کی بھی ضرورت ہے اور اسی تعاون،محبت اور کوآرڈنیشن کے تحت اندرونی و بیرونی دشمنوں کا نہ صرف مقابلہ بلکہ انہیں زیر کرکے وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر موجودہ حکومت جہاں اقتصادی محاذ پر مہنگائی اوربیروزگاری سمیت دیگر مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے وہیں قومی سلامتی و امن و امان کیلئے بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسی جذبہ کے ساتھ وزیراعظم میاں نواز شریف کی صدارت میں قومی سلامتی کے امور کے بارے میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، وزیر داخلہ چودھری نثار، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام ، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم ، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز اور وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز شریک ہوئے۔ اجلاس میں خطے میں سلامتی کی صورت حال کے علاوہ بھارت اور افغانستان میں انتخابی عمل کے بعد کی صورت حال پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں تمام قومی رہنما اور حکام پُرعزم تھے کہ اندرونی و بیرونی دشمنوں کے ساتھ کسی قسم کی رورعایت نہیں برتی جائے گی اور کسی کو بھی ملکی مفاد و سلامتی کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے اور جو کوئی اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

یہ خوش آئند ہے کہ قومی رہنما ملک کی قومی سلامتی اور اقتصادی خوشحالی کیلئے سر جوڑے بیٹھے ہیں اور یہ ہونا بھی چاہیے کیونکہ ہمارے پڑوس میں اہم نوعیت کی سیاسی تبدیلیاں رونما ہونے جا رہی ہیں اس کیلئے قبل ازوقت پالیسیاں بنانا ہی ملکی و قومی مفاد ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے اور ان عہدوں پر براجمان شخصیات کو ایک رول ماڈل ہونا چاہیے۔ اگر ان شخصیات کے بارے میں سوالات جنم لینا شروع ہوجائیں تو وہ بھی اس جمہوری تسلسل اور آئین کی پاسداری کیلئے کسی کاری ضرب سے کم نہیں ہوتے اور خبر آئی ہے کہ گزشتہ روز لاہورہائیکورٹ میں وزیراعظم محمدنواز شریف اورسابق صدرآصف علی زرداری سمیت دیگر سیاست دانوں کے بیرون ملک اثاثوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی ہے۔

درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ کے روبرو وزیراعظم محمد نواز شریف اور سابق صدرآصف علی زرداری سمیت متعدد دیگر سیاست دانوں کے بیرون ملک اثاثوں کے خلاف کیس دائر کر رکھا ہے اوردرخواست گزارکاموقف ہے کہ ان سیاست دانوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا، عدالت ان کے اثاثے واپس پاکستان لانے کا حکم جاری کرے، عدالت نے کیس پر کارروائی سولہ جون تک ملتوی کر دی ۔



موجودہ حکومت اپنا ایک سال مکمل کر چکی ہے اورحکومت کا دعوٰی ہے کہ اس ایک سال کے عرصہ میں ملکی معیشت کی سمت کا تعین کردیا گیا ہے اور اقتصادی اعشاریئے بھی ترقی کی جانب گامزن ہیں اور اقتصادی پالیسیوں کے لئے بجٹ سازی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تین جون کو اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ بجٹ سازی کیلئے مختلف چیمبرز اور تاجر تنظیموں کے ساتھ مشاورت اختتامی مراحل میں ہے اور اس بجٹ تجاویز و اگلے مالی سال کے فنانس بل کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری ہے۔ وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 2810 ارب روپے مقرر کرنے پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ تین سالہ پروگرام کے تحت ایس آر اوز کے ذریعے دی جانیوالی ٹیکسوں کی چھوٹ واپس لینے کے منصوبے پر عملدرآمد کی بھی منظوری دیدی گئی ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں متعدد ایس آر اوز واپس لئے جائیں گے جن کے تحت 75 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چھوٹ واپس لی جائے گی ۔ علاوہ ازیں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں زیادہ توجہ نئے ٹیکس دہندگان کی تلاش اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے پر دی جا رہی ہے جس کیلئے جامع پلان متعارف کروائے جارہے ہیں۔ اگرچہ حکومتی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بار ہا کہہ چُکے ہیں کہ آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ ٹیکس فری بجٹ ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ ریونیو کیسے اضافی آئے گا تو اس کیلئے ایف بی آر کے پاس یہ تحریری رپورٹ موجود ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 1800 ارب روپے سالانہ سے زائد کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے۔

ایف بی آر کی طرف سے بین الاقوامی سنٹر برائے پبلک پالیسی کے ذریعے جارجیا یونیورسٹی سے کروائی جانے والی اسٹڈی پر مبنی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 1855.254 ارب روپے سالانہ کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے جو کہ ایف بی آر کی طرف سے حاصل کردہ ٹیکس وصولیوں سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بھاری ٹیکس شرح ملک میں ٹیکس چوری کی بڑی وجہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اراکین پارلیمنٹ پر ٹیکس نہ دینے کے بارے میں انگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں اور یہ کریڈٹ بھی اگرچہ موجودہ حکومت کو جاتا ہے کہ موجودہ حکومت نے اراکین پارلیمنٹ کی اور عام ٹیکس دہندگان کی ٹیکس ڈائریکٹری شائع کی اور اب اراکین پارلیمنٹ کے اثاثہ جات اور ٹیکس ادائیگی کے معاملے کی چھان بینکے لئے دس ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل خصوصی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔

جو خود اپنے اور اپنے ممبران کے بارے میں ٹیکس ادا نہ کرنے کے الزامات کی تحقیقات کرے گی اور قابل حیرت بات یہ ہے کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے پارلیمنٹیرین کے خلاف تحقیقات کیلئے قائم کی جانیوالی کمیٹی میں نہ کوئی ٹیکس اتھارٹی(ایف بی آر) کا نمائندہ لیا گیا ہے اور نہ ہی ایف بی آر کے ماتحت اداروں ڈائریکٹریٹ انٹیلی جینس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو ،آڈٹ،انفورسمنٹ سمیت کسی دوسری ڈیپارٹمنٹ کا کوئی نمائندہ شامل کیا گیا ہے اور اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی خود ہی اپنے پیٹی بند بھائیوں کے بارے میں تحقیقات کرے گی اور اگر کمیٹی میں شامل کسی رکن پارلیمنٹ کے ٹیکس معاملے کا جائزہ لینا درکار ہوا تو وہ بھی کیا یہی کمیٹی انکوائری کرے گی جس کے باعث مذکورہ کمیٹی کا قیام ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

اگرچہ کمیٹی قائم کرنا حکومتی اقدام درست ہے مگر طریقہ کار غلط ہے کیونکہ یہ کمیٹی آزادانہ و غیر جانبدارانہ ہونی چاہیے تھی اور اصولی طور پر دیگر ٹیکس دہندگان کی جس طرح ٹیکس معاملات کی انکوائری کی جاتی ہے اسی طرح اراکین پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشواروں ان کے اخراجات اور اثاثہ جات و جائیداد ،بینک اکاونٹس ،ویلتھ اسٹیٹمنٹ و ری کنسیلیئشن سٹیٹمنٹس کی تحقیقات کی جانا چاہئیں کیونکہ ملک میں قانون سب کیلئے ایک جیسا ہے اگردوسرے ٹیکس دہندگان کو اپنے یا اپنی کمیونٹی سے وابستہ دیگر ٹیکس دہندگان کے ٹیکس معاملات بارے میں خود سے تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے تو اراکین پارلیمنٹ کو بھی نہیں ہونا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ پر آئی ایم ایف کا دباو تھا۔ اس کے علاوہ آٹھ اپریل 2014 کو پارلیمنٹ میں قرار داد(Motion) بھی پیش کی گئی تھی جس کے باعث سپیکر قومی اسمبلی نے اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے ٹیکسوں کی ادائیگی نہ کرنے کے معاملے کی تحقیقات کیلئے اراکین پارلیمنٹ پر کمیٹی قائم کی ہے۔