لوونسنٹ کی جان کو ایشیائی مافیا گینگ سے خطرہ

جب بکی نے میرے بچوں کا نام لیا تو خوف کا شکار ہونے لگا،ونسنٹ کی آفیشلز سے گفتگو


Sports Desk May 21, 2014
جب بکی نے میرے بچوں کا نام لیا تو خوف کا شکار ہونے لگا،ونسنٹ کی آفیشلز سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

فکسنگ کیس میں اعترافی بیان سامنے آنے کے بعد لوونسنٹ نیوزی لینڈ میں ہی کہیں روپوش ہوگئے، حفاظت کیلیے ایک نجی سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کرلیں، ایشیائی مافیا گینگ سے خطرہ محسوس کررہے ہیں۔

ان کے بیان کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ دنوں ونسنٹ کا اینٹی کرپشن و سیکیورٹی یونٹ کو دیے گیا اعترافی بیان میڈیا میں آگیا تھا، اس وجہ سے وہ اپنی جان خطرے میں محسوس کررہے ہیں، انھیں سب سے زیادہ خوف ایشیائی مافیا گینگز سے ہے جن سے بکیز کے گہرے روابط ہیں، وہ نہ صرف روپوش ہوچکے بلکہ اپنی حفاظت کے لیے نجی سیکیورٹی گارڈز بھی حاصل کرلیے ہیں۔ لوونسنٹ کی جانب سے اے سی ایس یو کو دیے جانے والے بیان کی کچھ مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس کے مطابق انھوں نے اپنی ٹیم ایسیکس کے لنکاشائر کے خلاف 8 اگست 2011 کو کھیلے جانے والے ٹوئنٹی 20 ایونٹ کے کوارٹر فائنل میں ایک کھلاڑی کو فکسنگ کے لیے 20 ہزار پائونڈ کی پیشکش کی جسے پہلے اس نے مسترد کردیا، پھر خود ہی 50 ہزار پائونڈ مانگے لیکن بعد میں ان کا ذہن تبدیل ہوا اور پھر انکار کردیا۔

اس میچ میں جب ایسیکس کی ٹیم کو شکست ہوئی تو اس پلیئر نے فکسنگ کے حوالے سے ڈریسنگ روم میں ہنگامہ کھڑا کردیا اور ونسنٹ کی رپورٹ بھی کردی۔ ونسنٹ کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ گھبرا گئے اور 45 ہزار پائونڈ اپنے گھر میں چھپا لیے تھے، ان کے بک میکر نے یہ بندوبست کیا تھا کہ وہ رقم دبئی کے ایک اکائونٹ میں جمع کرتا اور وہاں سے یہ نیوزی لینڈ کے اکائونٹ منتقل ہوجاتی تھی، ونسنٹ نے سسیکس کے ایک ساتھی پلیئر کو 15 ہزار پائونڈ بھی دیے مگر جب بکی نے ان کے بچوں کا نام لیا تو وہ خوف کا شکار ہونے لگے۔ ونسنٹ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ میں نے جو کچھ کیا اس پر سزا کا حقدار مگر امید کرتا ہوں کہ سزا ختم ہونے کے بعد مجھے کرکٹ کی خدمت کا موقع دیا جائے گا۔