پشاور میں نجی اسکول کے قریب دھماکا، بچوں سمیت 7 افراد زخمی

ویب ڈیسک  منگل 5 دسمبر 2023
فوٹو : اسکرین گریب

فوٹو : اسکرین گریب

 پشاور: خیبرپختوںخوا کے دارالحکومت میں واقع علاقے ورسک بابو گڑھی میں نجی اسکول کے قریب دھماکے کے باعث بچوں سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے۔

دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اور فلاحی اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پہنچیں۔

پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے زخمی بچوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا اور جائے وقوعہ کو سیل کر کے شواہد اکھٹے کیے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے قریبی بلڈنگ کے شیشے ٹوٹ گئے۔

پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے تین افراد ورسک روڈ پر چپس فروخت کرتے ہیں اور تینوں افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس پی ورسک محمد ارشد خان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمت واقعہ 9 بجکر 10 منٹ پر پیش آیا ہے، دھماکے کی نوعیت سے متعلق بی ڈی یو کی رپورٹ پر مزید تفصیلات شیئر کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ آئی ڈی بلاسٹ ہوا ہے اور دھماکے میں 4 کلوگرام بارودی مواد استعمال ہوا ہے، دھماکا میں کون ٹارگٹ تھا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

مزید پڑھیں؛ پشاور ورسک روڈ دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج موصول

مئیر میٹرپولیٹن زبیر علی کا کہنا تھا کہ ورسک روڈ پر تعلیمی ادارے ہیں اور یہ اہم شاہراہ ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آمد و رفت بھی اسی راستے سے ہوتی ہے۔ امن و امان کو خراب کرنے کے لیے یہ واقعہ رونماء ہوا۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال محمد عاصم نے بتایا کہ ورسک روڈ دھماکے کے چار زخمیوں کو ایل آر ایچ منتقل کیا گیا ہے، تین زخمی بچے ہیں جن کی عمر سات سے دس سال کے درمیان ہیں لیکن کوئی زخمی اسکول یونیفارم میں نہیں بلکہ راہگیر ہیں۔

اسپتال ترجمان کے مطابق و زخمی بچوں کی حالت تشویشناک ہے، تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ورسک روڈ پر بارودی دھماکے کا مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس نے سی ٹی ڈی کو مراسلہ لکھ دیا، جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ ورسک روڈ پر پولیس کی گاڑی گزری تو پہلے سے نصب شدہ بارودی مواد کا دھماکا ہوا تاہم پولیس کی گاڑی محفوظ رہی۔

مراسلے کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہوئے جبکہ قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ تخریب کاروں نے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لئے دھماکا کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔