سلیمان لاشاری قتل کیس عدلیہ پر اثر انداز ہونے کے الزام تحریری طور پر پیش کرنے کا حکم

سلمان ابڑو کے والد ایس پی غلام سرورکوجسٹس کے چیمبر سے نکلتے دیکھا،سینیٹر فاروق نائیک بھی جج سے ملے،وکلا


Staff Reporter May 27, 2014
سلمان ابڑو کے والد ایس پی غلام سرورکوجسٹس کے چیمبر سے نکلتے دیکھا،سینیٹر فاروق نائیک بھی جج سے ملے،وکلا. فوٹو: فائل

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر نے سلیمان لاشاری قتل کیس میں مدعی کے وکلا کی جانب سے عدلیہ پر اثرانداز ہونے کے الزام کو تحریری طور پر پیش کرنے کا حکم دیاہے۔

تفصیلات کے مطابق پیرکومقتول سلیمان لاشاری کے بھائی اور مقدمے کے مدعی ذیشان مصطفی لاشاری وکلا محمد خان بروڑو، مبشر مرزا اوردیگر کے خلاف جسٹس آفتاب گورڑ پر مشتمل سنگل بینچ کے روبرو پیش ہوئے جہاں ان کی سیشن عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22Aکے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل کی سماعت ہونا تھی،جسٹس آفتاب گورڑ کے 2رکنی بینچ میں شمولیت کے باعث ان کی عدالت میں زیر سماعت مقدمات جسٹس فاروق چنہ کی عدالت منتقل کردیے گئے جہاں اس اپیل کی سماعت 17ویں نمبر پر ہونا تھی ،مدعی کے وکلا بھی جسٹس فاروق چنہ کی عدالت میں پہنچ گئے۔

مقدمات زیادہ ہوجانے کے باعث جسٹس فاروق چنہ نے بھی بورڈ ڈسچارج کردیا ،مقدمات ملتوی کیے جانے کا فیصلہ سننے کے بعد مدعی کے وکلا جب کمرہ عدالت سے باہر نکلنے لگے تو ان کے مطابق سینیٹر فاروق ایچ نائیک کمرہ عدالت میں داخل ہوئے اور انھوں نے فاضل جسٹس سے مقدمے کی فوری سماعت کی درخواست کی، مدعی کے وکلا کے مطابق اس وقت فاضل جسٹس کمرہ عدالت سے اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے،وہاں انھوں نے مقدمے کی فائل طلب کی، وکلا نے یہ بھی الزام عائد کیاکہ جب وہ کمرہ عدالت سے نکل رہے تھے تو مرکزی ملزم سلمان ابڑو کے والد ایس پی غلام سرور ابڑو فاضل جسٹس کے چیمبر سے نکل رہے تھے ۔

محمد خان برڑو کے مطابق یہ صورتحال تشویش ناک تھی کیونکہ انھوں نے کچھ روز قبل ہی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ ملزم کے والد اپنے سرکاری عہدے اورتعلقات کو اس مقدمے پر اثرانداز ہونے کیلیے استعمال کررہے ہیں،ہائی کورٹ نے یہ درخواست پولیس کے اس بیان کی روشنی میں نمٹائی تھی کہ تفتیش غیر جانبدارانہ اور آزادانہ ہوگی، ملزم کے والد کا ان حالات میں ججوں کے چیمبر تک رسائی حاصل کرنا افسوسناک ہے اسلیے انھوں نے صورتحال سے چیف جسٹس ہائیکورٹ کو آگاہ کرنے کیلیے ان کے سیکریٹری سے رابطہ کیا، حالات سے باخبر ہونے کے بعد فاضل چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ یہ الزامات تحریری شکایت کی صورت میں ان کے روبرو پیش کیے جائیں۔

مقبول خبریں