بیورو کریسی نے کرپشن کو حق سمجھ لیا آپریشن کی ضرورت ہے سینیٹ کمیٹی

کمیٹی نے وزارت ہاؤسنگ اینڈورکس کے حکام کوآئینی اداروں کے ملازمین کاالاٹمنٹ کوٹا بڑھانے کی سفارش کردی۔


Numainda Express May 27, 2014
کمیٹی نے وزارت ہاؤسنگ اینڈورکس کے حکام کوآئینی اداروں کے ملازمین کاالاٹمنٹ کوٹا بڑھانے کی سفارش کردی۔ فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس نے کری روڈہاؤسنگ پروجیکٹ کی تاخیرپربرہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ سرکاری ملازمین کے 2ارب روپے اس پروجیکٹ میں پھنس گئے ہیں جبکہ اسٹیٹ آفس حکام سے افسران کوغیرقانونی طورپران کی کٹیگری سے بڑھے مکانات الاٹ کرنے کی تفصیلات مانگ لیں۔

کمیٹی نے وزارت ہاؤسنگ اینڈورکس کے حکام کوآئینی اداروں کے ملازمین کاالاٹمنٹ کوٹا بڑھانے کی سفارش کی ہے۔قائمہ کمیٹی کااجلاس چیئرمین شاہی سیدکی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں سینیٹرزظفرعلی شاہ، فرحت عباس، ثریا امیر الدین ،وزیرمملکت عثمان ابراہیم،جوائنٹ سیکریٹری وزارت طارق بخشی،اسٹیٹ آفیسر پیراشرف سمیت وزارت ہاؤسنگ وذیلی اداروں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کوبتایاگیاکہ کری روڈہاؤسنگ اسکیم پر2011میں ڈیولپمنٹ کا آغاز ہو ا ۔

18 ماہ میں پروجیکٹ کاڈیولپمنٹ کا کام مکمل ہونا تھا تاہم ابھی تک صرف 5فیصد کام مکمل ہوسکاہے اسکیم میں90 ایکڑاراضی پر 558 پلاٹ، گریڈ20 کے2افسران کیلیے گھر اور پلاٹ ڈیولپ کرکے دینے ہیں۔ماضی میں اس منصوبے کے گھپلوں حوالے سے محکمانہ انکوائری جاری ہے۔چیئرمین کمیٹی شاہی سید نے کہاکہ گریڈ20 سے22 کے 500سے زائد اعلیٰ سرکاری افسران کے2 ارب روپے پھنس گئے ہیں انھیں گھر/ پلاٹ الاٹ ہو ا نہ رقم واپس کی گئی جبکہ ان میں سے کچھ تو ریٹائر بھی ہوگئے ہیں۔سیدظفرعلی شاہ نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے جب اس منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے ادارے کوٹھیکیدارکوپانچ کروڑکی بڑی رقم کی ادائیگی کرنے سے منع کیاتھا تو پی ایچ اے فاؤنڈیشن نے اس کے باوجود ٹھیکیدار کو رقم کی ادائیگی کیوں کی۔

شاہی سیدنے کہاکہ بیورو کریسی نے کرپشن کوحق سمجھ لیاہے جن افسران نے منصوبے کی غلط ڈیزائننگ اور ناجائز ادائیگیاں کیں ان کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔جوائنٹ سیکریٹری طارق بخشی نے کمیٹی کوبتایاکہ سابقہ دورحکومت میں پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاونڈیشن میں خلاف ضابطہ 130 ملازمین بھرتی کئے گئے جن کامعاملہ نیب میں ہے۔انہوں نے کہاکہ ان ملازمین کوسیدخورشیدشاہ کمیٹی نے مستقل بھی کیا۔سٹیٹ آفیسرپیر اشرف نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ادارے نے کل 69سرکاری ملازمین کو نوٹس بھجوائے ہیں جنہوں نے غیر قانونی طور پر گھروں کی الاٹمنٹ کرائی ہیں اور ان کے پاس آئی اور ایچ ٹائپ گھر ہیں ۔کمیٹی نے اس پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری مکانات وراثتی جائیداد نہیں ہونی چاہیے،ویٹنگ لسٹ کے مطابق مکانات کی الاٹمنٹ ہونی چاہیں۔چیئرمین کمیٹی شاہی سیدنے اس موقع پرکہاکہ وزارت میںبڑی پیمانے پرملٹری آپریشن کی ضرورت ہے۔انھوںنے کہاکہ معلوم ہواہے کہ ظفراقبال گوندل نے غیر قانونی طور پر گھر الاٹ کروایاہے۔

انھوں نے اسٹیٹ آفس حکام کوہدایت کی جن سرکاری ملازمین وافسران کوان کی کیٹگری کے بڑھے گھرالاٹ کیے گئے ہیں ان کی تفصیلات آئندہ میٹنگ میں فراہم کی جائیں۔اسٹیٹ آفیسرنے بتایاکہ دفترکے 50 اہلکاران کے مقدمات ایف آئی اے کے سپرد کیے گئے ہیں ایک جوائنٹ اسٹیٹ افیسرکومعطل کیاگیاہے پہلی بارغیرقانونی قابضین کونوٹس جاری کیے گئے ہیں۔کمیٹی کوبتاے ا گیا کہ سرکاری رہائشگاہوںکی الاٹمنٹ کے سلسلے میںوفاقی وزارتوں ملحقہ ادروںقانون سازادروں اورعدلیہ کے ملازمین کاکوٹا موجود ہے جس پرچیئرمین کمیٹی نے کہاکہ آئینی اداروںکے ملازمین کے کوٹا کو بڑھایا جائے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی نے اعلیٰ بیورو کریٹس کودودو تین تین پلاٹ الاٹ کرنے پرناراضی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ زیادہ تر سرکاری ملازم فوت ہوجاتے ہیں لیکن پلاٹ الاٹ نہیں کیا جاتا۔اے پی پی کے مطابق کمیٹی کو بتایا گیا کہ1000کے قریب سرکاری ملازمین بلا اجازت سرکاری مکانات میں رہائش پذیر ہیں ۔

علاوہ ازیں رپورٹر کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے ارکان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ زیر تعمیر لیاری ایکسپریس وے کے باقی ماندہ حصہ کی بروقت تکمیل کیلیے سندھ حکومت مطلوبہ اراضی کی فراہمی کویقینی بنائے۔وفاقی وزیرپارلیمانی امور شیخ آفتاب نے بتایا کہ این ایچ اے کی طرف سے کوئی تاخیرنہیںہے ، اس لیے اراضی کامعاملہ سلجھ جانے کے بعد تعمیر ی عمل برق رفتاری سے شروع کردیا جائیگا،بعدازاںایوانِ زیریں کی قائمہ کمیٹی کے ارکان چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ ، پارلیمانی امور کے وزیرمملکت شیخ آفتاب احمد و دیگر متعلقہ حکام نے لیاری ایکسپریس وے کا باضابطہ دورہ کرکے تعمیری عمل کابغور جائزہ لیا۔نامہ نگار کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق نے لورالائی میں ہائیکورٹ بینچ تشکیل دینے سے متعلق آئینی ترمیمی بل2014پیش کرنے کے اقدام کوسراہتے ہوئے حکومت اور چیف جسٹس بلوچستان کی مشاورت کیلئے بل پر بحث آئندہ اجلاس تک ملتوی کردی۔