سندھ کی سرکاری جامعات میں مالی بے ضابطگیوں کا نوٹس

مالی بے ضابطگیاں روکنے کیلیے قانون سازی کی جائے، وزیراعلیٰ سے خط میں استدعا کرنیکا فیصلہ


Staff Reporter May 29, 2014
مہران یونیورسٹی کی قبضہ کی گئی اراضی کو واگزار کرایا جائے، پی اے سی کی متعلقہ حکام کوہدایت. فوٹو: فائل

لاہور: سندھ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرا علیٰ سندھ کوایک خط تحریر کرنے کافیصلہ کیا ہے۔

اس خط میں وزیراعلیٰ سندھ سے استدعاکی جائے گی کہ صوبے کی تمام سرکاری جامعات میں مالی بے ضابطگیوں کوروکنے اور مربوط مالیاتی نظام کی تشکیل کے لیے قانون سازی کی جائے ، پی اے سی نے متعلقہ حکام کوہدایت کی ہے کہ مہران یونیورسٹی کی قبضہ کی گئی اراضی کو فوری واگزارکرایا جائے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اس قبضہ کی گئی اتھارٹی پر پیٹرول پمپ کی تعمیر کی جواین او سی جاری کی ہے وہ اسے فوری معطل کرے،پی اے سی متعلقہ اداروں کوہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے کی تمام قبضہ کی گئی اراضی کو واگزار کرانے کیلیے اینٹی انکروچمنٹ کا عملہ پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر لینڈ مافیا کیخلاف کارروائی کرے ، اس بات کا فیصلہ بدھ کو سندھ اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ہونیوالے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کی صدارت پی اے سی کے چیئرمین سلیم جلبانی نے کی، اجلاس میں مہران یونیورسٹی کے مالی سال 2008-09کا جائزہ لیا گیا ۔آڈیٹر حکام نے اجلاس کو بتایا کہ مہران یونیورسٹی نے 2008-09میں ساڑھے4 کروڑ روپے کے اخراجات کیے ہیں ،جن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ،اجلاس کے دوران ڈائریکٹر فنانس اورآڈیٹر میں جھڑپ ہوگئی،مہران یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس نے کہا کہ آڈیٹر کے الزامات بے بنیاد ہیں تاہم وہ ان اخراجات کا کوئی حساب نہیں پیش کرسکے ،پی اے سی نے مہران یونیورسٹی میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیلیے کمیٹی قائم کردی۔