قومی بجٹ 152014 میں حکومت کا بیرونی قرضوں اور گرانٹس پر انحصار بڑھ گیا

بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ڈونر ایجنسیوں اور دوست ممالک سے 9کھرب 36ارب 72کروڑ روپے لیے جائینگے


Kashif Hussain June 07, 2014
کیری لوگر بل سے 15.95ارب،نجکاری منصوبوں میں غیرملکی معاونت اورقرضوں کی مد میں 198ارب،سکوک وساورن بانڈز سے99ارب ملنے کی توقع۔ فوٹو: فائل

نئے بجٹ میں حکومت کا غیرملکی قرضوں اور گرانٹس پر انحصار بڑھ گیا ہے۔

بجٹ میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ڈونر ایجنسیوں اور دوست ممالک سے ترقیاتی اور غیرترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹس اور قرضوں کاتخمینہ 9کھرب 36ارب 72کروڑ روپے لگایا گیا ہے جو مالی سال 2013-14کے 6کھرب 18ارب 51کروڑ روپے کے مقابلے میں 318 ارب روپے زائد ہے۔آئندہ مالی سال کیری لوگر بل سے 15.95ارب روپے، نجکاری کے منصوبوں میں غیرملکی معاونت اور قرضوں کی مد میں 198ارب روپے ملنے کی توقع، ساورن بانڈز سے 49.50ارب روپے، سکوک بانڈز سے 49.50 ارب روپے، اسٹینڈرڈ سنڈیکیٹڈ لونز کے ذریعے 9.9 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے۔

وفاق کے منصوبوں کو 33.34ارب روپے اور صوبوں کو 103.55 ارب روپے کے وسائل بیرونی ذرائع سے مہیا کیے جائیں گے۔ مالی سال 2013-14کے 618.51ارب روپے کے تخمینے کے مقابلے میں غیرملکی قرضوں اور گرانٹس کی مالیت(نظر ثانی شدہ) 785ارب 55 کروڑ روپے رہی۔ آئندہ مالی سال کے دوران حکومت نے پراجیکٹ ایڈز کی مد میں 2کھرب9ارب 69کروڑ روپے کے بیرونی وسائل کا تخمینہ لگایا ہے جس میں سے 1 کھرب 74ارب 82 کروڑ روپے کے قرضے اور 30ارب 85کروڑ روپے کی گرانٹس شامل ہیں۔ نان فوڈ کموڈیٹی امداد (قرضوں) کا تخمینہ 110.27 ارب روپے سے بڑھا کر 201.46ا رب روپے لگایا گیا ہے۔

مالی سال 2013-14 میں ٹوکیو وعدوں کی مد میں 1.11 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا تھا تاہم اس میں سے کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا اس لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی تخمینہ نہیں رکھا گیا۔ آئندہ بجٹ میں کیری لوگر بل کے ذریعے امریکا سے 15.95ارب روپے کی وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے، مالی سال 2013-14کیلیے 1ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا جبکہ اصل وصولیاں 16.22ارب روپے رہیں۔ آئندہ بجٹ میں نجکاری کے لیے غیرملکی گرانٹ کا تخمینہ 198ارب روپے لگایا گیا ہے جو مالی سال 2013-14 میں 79.20ارب روپے تھا۔ متفرق ایڈ(امدادی قرضوں) کا تخمینہ 2 کھرب 47 ارب 50کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال میں وفاقی منصوبوں کے لیے غیرملکی گرانٹ اور قرضوں کا تخمینہ 33.34ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں24.59ارب روپے کے قرضے اور 8.75ارب روپے کی گرانٹس شامل ہیں۔ خودمختار اداروں کے پراجیکٹس کیلیے غیرملکی معاونت کا تخمینہ 68.79 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں 68.24ارب روپے کے قرضے اور 55 کروڑ روپے کی گرانٹ شامل ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران صوبوں کو غیر ملکی قرضوں اور گرانٹ کی مد میں 103.55ارب روپے مہیا ہوں گے جومالی سال 2013-14 کیلیے 77.53ارب روپے کے تخمینے کے مقابلے میں 85.243ارب روپے ہونگے۔

آئندہ مالی سال صوبوں کیلیے 103.55ارب روپے کی غیرملکی معاونت اور گرانٹ میں 82ارب روپے کے قرضے اور 21.55ارب روپے کی گرانٹس شامل ہیں۔ صوبوں کو ملنے والے غیرملکی قرضوں اور گرانٹس میں سب سے زیادہ 40.58 ارب روپے پنجاب کو ملیں گے جن میں 39.14 ارب روپے کے قرضے اور 1.43ارب روپے کی گرانٹس شامل ہیں۔ سندھ کو 29.95ارب روپے، کے پی کے کو 28.275 ارب روپے جبکہ بلوچستان کو 4.73ارب روپے کے وسائل بیرونی ذرائع سے مہیا ہوں گے۔

آئندہ مالی سال 936.72 ارب روپے کے مجموعی غیرملکی قرضوں اور گرانٹس میں 105.62 ارب روپے ایشیائی ترقیاتی بینک، 144.77 ارب روپے چین، 49.50ارب روپے ساورن بانڈز، 49.50ارب روپے سکوک بانڈز کی نیلامی سے حاصل کیے جائیں گے۔ انٹرنیشنل بینک برائے تعمیرنو و بحالی(ورلڈ بینک) سے 117.22ارب روپے، انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن سے 35.04ارب روپے، اسلامی ترقیاتی بینک سے 56.30 ارب روپے، انٹرنیشنل فنڈ برائے زرعی ترقی سے 3.06ارب روپے، جاپان سے 24.55ارب روپے، امریکا سے 14 ارب روپے، برطانیہ سے 3.5ارب روپے، اسٹینڈرڈ سنڈیکیٹڈ ٹرم لونز کے ذریعے 9.9ارب روپے مہیا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مقبول خبریں