حکومت نے کشکول کا سائز بڑھا دیا اب ہر بچہ 84 ہزار کا مقروض ہو گیا خورشید شاہ

بجٹ 52 کلوکا ہے اس کے سواکچھ نہیں، اسحاق ڈارکمال آدمی ہیں، میری جگہ کھڑاکردیں توایک منٹ میں اسے زیرو بنادیں گے


Numainda Express June 07, 2014
ووٹرسوچتاہے ملک کی تقدیربدلنے کیلیے ووٹ دے رہاہے،5سال بعدہم روٹی بھی چھینتے ہیں،خطاب،وزیراعظم کی بھی شرکت فوٹو: اے پی پی/فائل

قومی اسمبلی میں جمعے کو بجٹ پر بحث کا آغاز ہوگیا۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید نے کہا ہے کہ بجٹ بنانا ارکان پارلیمنٹ کا کام ہے اگر اسے ایوان میں لایا جاتا تو بہتر ہوتا۔

بحث کا آغاز کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے انتخابات سے پہلے کشکول توڑنے کا کہاتھا لیکن یہ ٹوٹا نہیں بلکہ اس کاسائز مزید بڑا ہوگیا، حکومت نے ایک سال میں اتنا قرضہ لیاجتنا ہم نے 5 سال میں بھی نہیں لیا،ہمارے دور میں جو بچہ پیدا ہوتا تھا وہ 74ہزارکا مقروض ہوتا تھا لیکن آج ہر پیداہونیوالا بچہ 84 ہزار کا مقروض ہوتا ہے ، ووٹ دیتے وقت ووٹریہ سوچتا ہے کہ وہ پاکستان کی تقدیربدلنے کیلیے ووٹ دینے جا رہا ہے تاہم 5سال بعد اس سے ہم روٹی بھی چھینتے ہیں محکومت نے52 کلو گرام کا بجٹ پیش کیا ، اس کے سوا کچھ بھی نہیں لیکن اسحاق ڈار کمال کے آدمی ہیں ، وہ پتھر کو سونا کہیں گے اور اسے ثابت بھی کریں گے ۔

ان کی شاگردی اختیار کرنا پڑے گی، ڈار صاحب کو آج اگر میری جگہ کھڑا کردیں تو وہ اس بجٹ کو ایک منٹ میں زیروثابت کردیں گے اور میاں صاحب سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے،طویل تقریر کرکے وزیر خزانہ ارکان کوکنفیوژ کرنے میں کامیاب رہے ،2008 میں جب ہماری حکومت آئی تواسحاق ڈار کی بریفنگ کے بعد ہمارے بلڈپریشر ہائی ہو گئے تھے کہ کہیں ملک دیوالیہ نہ ہو جائے تاہم 2 سال بعد گندم کی سرپلس پیداوار ہوئی۔ سابق اپوزیشن لیڈر چودھری نثارعلی خان کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بجٹ کوئی وزارت یا ڈویژن نہ بنائے بلکہ پارلیمنٹ بنائے لیکن لگتاہے کہ حکومت نے ان کی سفارشات پر عمل نہیں کیا ، بجٹ اپریل میں ایوان اور قائمہ کمیٹیوں میں لانے کی تجویز تھی تاہم اس پربھی عمل نہیں ہوا،بجٹ بناناارکان کا کام ہے ۔

اسے اگر ایوان میں زیر بحث لایا جاتا تو بہتر ہوتا،پہلے پارلیمانی سال میں قانون سازی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب آپ کا ایک سال ضائع ہوگیا،ہمارے دور میں ریکارڈ قانون سازی ہوئی جبکہ موجودہ حکومت کی کارکردگی زیرو ہے ، وزیراعظم کی کرسی بھی عجیب و غریب ہوتی ہی جس میں غریب کی جھونپڑی بھی محل لگتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مارشلاؤں نے اس ملک کابیڑا غرق کردیا،نیا پاکستان بنانے والے قائداعظم کے بنائے پاکستان پر ہی اکتفا کریں۔این این آئی کے مطابق اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وزارت خزانہ نے بجٹ پیش ہونے کے بعد جی ایس ٹی میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھاجس پر اپوزیشن ارکان نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی اور اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران نوٹس لیتے رہے۔اجلاس میں سابق رکن قومی اسمبلی نوابزادہ محسن قریشی کے ایصال ثواب کیلیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ بعدازاں اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔