ضلع سینٹرل میں دہشت گردوں کا راج شہری خوف میں مبتلا

سال بھر سے جاری حملوں، فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ اور دھماکوں میں درجنوں افراد زندگی ہارگئے


Staff Reporter September 20, 2012
غیر ذمے دارانہ حکمت عملی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے فقدان نے نہ صرف مکینوں کو جرائم پیشہ اور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا. فوٹو: فائل

ڈسٹرکٹ سینٹرل میں قتل و غارت گری ، بم دھماکوں ، فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ ، دستی بم حملوں اور ڈکیتی و رہزنی کی وارداتوں کے باعث نہ صرف علاقہ مکین بلکہ تاجر بھی شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

ڈسٹرکٹ سینٹرل میں تعینات اعلیٰ افسر کی ناقص کارکردگی ، غیر ذمے دارانہ حکمت عملی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے فقدان نے نہ صرف مکینوں کو جرائم پیشہ اور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

بلکہ درجنوں افراد اپنی زندگی سے بھی محروم کر دیے گئے جس سے اعلیٰ پولیس افسر کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

ڈسٹرکٹ سینٹرل کے تھانیدار اپنے علاقے میں امن و امان پر قابو رکھنے کے بجائے اعلیٰ افسران کی خوشامد کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ،ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس ذرائع کے مطابق گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے کے دوران ڈسٹرکٹ سینٹرل میں قتل و غارت گری ، دستی بم حملوں ، فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں درجنوں افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

تاہم اثر و رسوخ اور تعلقات کی بنا پر تعینات اعلیٰ افسر سے بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں پر نہ تو کسی قسم کی باز پرس کی جاتی ہے اور نہ ہی انھیں تبدیل کرنے کی کسی میں ہمت ہے ۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل کے اعلیٰ افسر کی تعیناتی کے دوران موبائل فون کمپنیز کے فرنچائز دفاتر پر بموں سے حملے کیے گئے ، ایک ہی واردات میں 5 ، 5 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد کو فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں موت کی نیند سلا دیا گیا۔

جبکہ دہشت گردی کی تازہ واردات میں حیدری مارکیٹ کے قریب بوہری کمیونٹی کو نشانہ بنانے کیلیے 2 خوفناک بم دھماکے کیے گئے جس میں 8 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 22 افراد زخمی ہوگئے جبکہ اس واقعے سے قبل پیر کی رات کے ڈی اے چورنگی پر دہشت گردی کی واردات میں لیاقت آباد کے سابق ٹاؤن ناظم ڈاکٹر پرویز محمود سمیت 2 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ۔

ڈسٹرکٹ سینٹرل میں قتل و غارت گری کی دیگر وارداتوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درجنوں عہدیداروں اور کارکنوں کو بھی ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں زندگی سے محروم کر دیا گیا ،ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس ذرائع کا کہنا ہے تھانیداروں کی جانب سے جب اعلیٰ افسران کو خوش کرنے کے لیے ان کے گھروں کی سجاوٹ کیلیے لائٹ ہاؤس سے مبینہ طور پر بھاری مالیت کے فانوس اور دیگر سامان فراہم کیا جائیگا تو ان سے جرائم کی وارداتوں پر قابو نہ پانے پر کون باز پرس کرے گا ۔

ڈسٹرکٹ سینٹرل میں تعینات متعدد تھانیدار اعلیٰ افسران کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلیے انھیں بہانوں سے خوش رکھنے میں ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں،علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ قتل و غارت گری تو پورے شہر میں ہو رہی ہے تاہم ڈسٹرکٹ سینٹرل میں قتل و غارت گری کی بڑھتی وارداتوں کے باعث مکین خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔