پولیس افسران کی تنزلی نہ کرنے پر سندھ حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کا شولڈر پروموشن کیس میں فیصلے پرمکمل عملدرآمد نہ کرنے پر برہمی، سندھ حکومت نے پسند نا پسند کودیکھا


Numainda Express June 11, 2014
ای اوبی آئی کومہنگے داموں اراضی کی فروخت کے مقدمے میں چکوال کے 2افرادنے رقم کاپے آرڈررجسٹرارکے پاس جمع کرادیا،سود ادائیگی پربھی رضامندی،عدالت کی کیس دوسری کیٹگری میں لگانے کی ہدایت فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے شولڈر پروموشن کیس کے فیصلے کے زد میں آنیوالے اعلیٰ پولیس افسران کی تنزلی نہ کرنے کا سخت نوٹس لیا اورآبزرویشن دی ہے کہ اس خلاف ورزی پر سندھ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

عدالت نے ان پولیس افسران کی فہرست طلب کرلی ہے جن کی تنزلی نہیں کی گئی ہے۔نان کیڈر سرکاری ملازمین کوکیڈر اسامیاں دینے اور شولڈر پروموشن دینے کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں نے شکایت کی کہ حکومت نے عدالت کے فیصلے کے اطلاق میں بھی پسند ونا پسندکو مد نظر رکھا ہے۔سب انسپکٹر کی سطح کے افسران کی تنزلی کی گئی جبکہ اعلیٰ افسران پرفیصلے کا مکمل اطلاق نہیں کیا گیا۔جسٹس اعجاز احمد چوہدری نے کہاکہ ایسا کرکے عدالت کے فیصلے کی توہین کی گئی ہے اور اس پر سندھ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے۔

فیصلے سے متاثرہ کچھ افسران کے وکیل افتخارگیلانی نے استدعا کی کہ اس معاملے کو ہائیکورٹ پر چھوڑا جائے کیونکہ اس عدالت نے صرف 6 افراد کا معاملہ سن کر فیصلے کا اطلاق سب پرکردیا جس سے ابہام پیدا ہوا ہے۔جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ جن افراد نے نظرثانی کی درخواست دائرکی ان سب کوسناجائیگا۔جسٹس امیرہانی مسلم نے کہاکہ ڈسٹرکٹ مینجمنٹ کی اسامی پرمقابلے کے امتحان میں پاس ہونے والے افراد ہی تعینات ہوسکتے ہیں، کسی اور محکمے کے ملازمین ڈسٹرکٹ منیجمنٹ میں لا کر ڈپٹی کمشنر نہیں بنائے جا سکتے۔

عدالت نے ڈسٹرکٹ منیجمنٹ میں ترقیوں کی پالیسی طلب کرتے ہوئے آبزرویشن دی ڈسٹرکٹ منیجمنٹ میں ترقیوں کے لیے کیا معیار اپنایا جاتا ہے، عدالت اس کو دیکھنا چاہتی ہے۔ڈی آئی جی لیگل سندھ پولیس علی شیر جکھرانی نے بتایا کہ جن افسران کی تنزلی نہیں ہوئی، انھوں نے سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناع حاصل کیا ہے،عدالت نے آبزرویشن دی کہ ہائیکورٹ سرکاری ملازمین کی ترقیوںکا فیصلہ نہیں کرسکتی، یہ اختیار سروسز ٹربیونل کا ہے۔

جسٹس اعجاز احمد چوہدری نے کہا فیصلے کااطلاق یکساں ہونا چاہیے لیکن سندھ حکومت نے یہاں بھی پسندو نا پسندکودیکھا ہے، مزید سماعت آج کے لیے ملتوی کردی گئی۔دریں اثنا ای او بی آئی کو مہنگے داموں اراضی فروخت کرنے کے مقدمے میں چکوال کے رہائشی راجا ثنا الحق اور ڈاکٹر مقصود الحق نے اراضی کی واپسی کے بدلے اصل رقم سود سمیت ادا کرنے پر رضامندی ظاہرکردی۔جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس اطہر سعید پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

دونوں فریقین کی جانب سے چوہدری افراسیاب نے کہا کہ ہم نے اصل رقم پے آرڈرکی صورت میں رجسٹرارکے پاس جمع کرادی ہے اور مارک اپ بھی دینے کوتیار ہیں۔عدالت نے کہاکہ توپھربات ختم ہوئی، ہم نے کیس میں 2کیٹگریز بنائی ہیں ایک وہ جو اصل رقم اور مارک اپ ادا کرنا چاہتے ہیںاور دوسرے وہ جو رقم ادائیگی میں دلچسپی نہیں رکھتے،عدالت نے کہا کہ آپ کا کیس دیگرکے ساتھ لگا دیا جائے گا۔