بلدیاتی نظام کا تماشا
دو کروڑ آبادی کے لیے 18 ٹائونز اور 178 یونین کونسلیں بہت کم ہیں
ISLAMABAD:
وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان وقار مہدی نے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012 کے متعلق اخباری خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو بلدیاتی اداروں کے بجٹ منظور کرنے اور ان پر نظرثانی کے مکمل اختیارات ہیں اور حکومت اپنے اختیارات سے دستبردار نہیں ہوئی اور حکومت کو 1979-2001 کی طرح نئے نظام میں بھی بلدیاتی اداروں پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور پی پی اور متحدہ نے سندھ کو بہترین نظام دیا ہے۔
سندھ حکومت کی چار سابق حلیف جماعتوں، تمام قوم پرستوں کے علاوہ مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف، جماعتِ اسلامی، جے یو آئی اور دیگر چھوٹی جماعتوں نے نئے بلدیاتی نظام کو ایک ایسا ایشو بنالیا ہے جیسے اس سے بڑا مسئلہ سندھ میں کوئی اور ہے ہی نہیں اور نئے بلدیاتی نظام سے سندھ میں قیامت آجائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ جنرل پرویز کے دیے گئے بااختیار ضلعی نظام کے مقابلے میں 2012 کا جو بلدیاتی نظام رات کے اندھیرے میں آرڈیننس کے ذریعے گورنر سندھ نے جاری کیا ہے وہ بہت کم اختیارات کا حامل ایک محکوم نظام ہے جو سندھ حکومت اور محکمہ بلدیات کے مکمل کنٹرول میں ہوگا۔
جس میں میٹرو پولیٹن کارپوریشنوں کو اپنا نیا عملہ بھرتی کرنے کا بھی اختیار نہیں ہوگا اور وہ صرف خالی جگہوں پر نچلے درجے کے عملے کو بھرتی کرنے کی مجاز ہوں گی۔ ضلعی نظام ایک ایسا بااختیار نظام تھا جس میں بیورو کریٹس منتخب ناظم کے ماتحت تھے اور ناظم کو مکمل مالی اور انتظامی اختیارات حاصل تھے۔
پی پی اور متحدہ کا منظور کردہ مجوزہ بلدیاتی نظام کی مخالفت اور سیاست چمکانے کا موقع خود حکومت نے اپوزیشن ہی نہیں بلکہ اپنے حلیفوں کو دیا ہے۔ اگر یہ نظام آرڈیننس کے بجائے بل کی صورت اسمبلی میں پیش کیا جاتا، اس پر بحث ہوتی تو موجودہ صورت حال پیش نہ آتی اور کچھ ردوبدل سے سندھ کو ایک پہلا جمہوری حکومت کا بلدیاتی نظام مل جاتا مگر لگتا ہے کہ جان بوجھ کر یہ صورتِ حال پیدا کی گئی ہے۔
حکومتی حلیفوں کے وزیر مشیر جلد بازی میں مستعفی ہوگئے ہیں اور بلدیاتی نظام کے سارے مخالفین نے پیر پگارا کی قیادت میں ایک ہو کر سندھ میں پی پی اور متحدہ کے خلاف محاذ بنا کر ہڑتال، احتجاج اور سندھ میں قیامت برپا کردی ہے اور اس نظام کو سندھ کی تقسیم قرار دیا جارہا ہے اور بلدیاتی نظام پر ان سب کو سیاست چمکانے اور حلیفوں کو عام انتخابات سے چند ماہ قبل حکومت سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن بننے کا موقع مل گیا ہے اور اب یہ سب اسی بنیاد پر عام انتخابات لڑیں گے۔
جنرل پرویز مشرف نے کمشنری نظام ختم کرکے جب ضلعی نظام نافذ کیا تھا تو کمشنری نظام کے ان حامیوں میں سے کسی ایک نے بھی مخالفت نہیں کی تھی اور آج ان کی کھلی منافقت ظاہر ہوگئی ہے کہ ان کا کوئی اصول نہیں۔کمشنری نظام کے حامیوں نے 2001 کے دونوں انتخابات میں بھرپور حصّہ لیا تھا۔ کراچی میں 18 ٹائون بنانے کی اور نہ کمشنری نظام ختم کرنے پر آواز نکالی تھی۔
کراچی میٹرو پولیٹن سٹی ہے جہاں سندھ میں واحد میٹرو پولیٹن کارپوریشن (بلدیہ عظمیٰ) تھی۔ دنیا بھر میں میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی انفرادیت اور ضروریات ہوتی ہیں۔ پونے دو کروڑ آبادی کے لیے 18 ٹائون اور 178 یونین کونسلیں بہت کم ہیں جن کی تعداد میں ضرورت کے مطابق اضافہ نہیں کیا گیا۔
کراچی کے موجودہ اضلاع کی نوعیت بھی ملک بھر سے مختلف ہے جن میں زیادہ تر شہری حدود ہیں اور دیہی علاقے شہری علاقوں سے کم ہیں اور کراچی دنیا کے 13 میگاسٹیز میں شامل ہے اور کراچی کو یہ اعزاز بھی ضلعی نظام ہی کی بدولت ملا تھا اور کراچی جیسا ملک بھر میں کوئی ضلع نہیں ہے۔
مگر نئے بلدیاتی نظام میں حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ اور سکھر کو بھی میگا سٹی کراچی کے برابر حیثیت دی گئی ہے، جس پر اندرون سندھ کے سیاست دانوں کو خوش ہونا چاہیے مگر انھیں یہ قبول نہیں۔
عوام کے منتخب نمایندوں کی حمایت کے بجائے بیورو کریٹس کی ماتحتی میں ان کا غلام بن کر رہنے والوں کو وہ بیورو کریٹ حاکم پسند ہیں جو انھیں اپنے اقتدار میں اہمیت نہیں دیتے اور سندھ کے دیہی ارکان اسمبلی ان سے ملنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں اور وقت لے کر افسروں سے ملنا باعثِ فخر سمجھتے ہیں اور خوشامد میں ان کی دعوتیں کراتے اور شکار کرا کر خوش ہوتے ہیں۔
(ق) لیگ حکومتی حلیف ہے جس کی طرف سے غوث بخش مہر وفاقی وزیر ہیں جو 1979 کے نظام میں 3 بار ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین رہے جب کہ ان کا بڑا بیٹا ضلعی نظام میں دو بار ضلع حکومت شکارپور کا ضلعی ناظم رہا جو بیوروکریسی پر بھی اثر انداز ہوتے رہے اور اب غوث بخش مہر نے نئے بلدیاتی نظام پر خود تو استعفیٰ نہیں دیا بلکہ اپنے بیٹے صوبائی وزیر شہریار مہر سے استعفیٰ دلایا ہے۔ الحاج غوث بخش مہر سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ 1979 اور 2001 میں کون سا بلدیاتی نظام بہتر اور بااختیار تھا۔
2012 کے بلدیاتی نظام کی مخالفت کرنے والے سیاست دانوں اور جماعتوں نے دونوں سابق بلدیاتی انتخابات میں بھرپور شرکت کی تھی۔ بااختیار ضلعی نظام میں صدر مملکت کی ہمشیرہ اور وزیر اعلیٰ سندھ کی صاحبزادی ضلعی ناظمہ رہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ ضلعی نظام کیسا تھا۔
2012 کے بلدیاتی نظام کے تحت انتخابات ہوں تو اس کے سب مخالف حصّہ لیں گے اور اپنے حلقے خالی نہیں چھوڑیں گے مگر اب یہ سب پی پی اور متحدہ مخالفت میں اپنی سیاست چمکانے کے لیے بلدیاتی نظام کی واقفیت حاصل کیے بغیر مخالفت کررہے ہیں اور ایک کمزور اور بے اختیار بلدیاتی نظام کو تماشا بنادیا گیا ہے۔ منتخب ارکانِ اسمبلی کا انتخاب کے بعد اپنے حلقہ میں دل نہیں لگتا وہ کراچی آکر رہتے ہیں جہاں ان کے کاروبار، جائیدادیں اور گھر ہیں، ان کے بچے رہتے ہیں مگر اب انھیں کراچی سندھ سے الگ نظر آرہا ہے۔
حالانکہ سندھ کراچی کے بغیر اور کراچی سندھ کے بغیر نامکمل ہے اور اپنے سیاسی مفاد کے لیے بلدیاتی نظام کے یہ مخالف کراچی کو ترقی کرتا دیکھنا نہیں چاہتے۔