بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کے مقدمے میں گرفتار3ملزمان کا جسمانی ریمانڈ

ملزمان کے خلاف تھانہ سائٹ میں مقدمہ درج ہے


Staff Reporter September 21, 2012
پولیس نے ملزمان سے تحقیقات کرنے کیلیے6روزکاجسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا. فوٹو: اے ایف پی

لاہور: بلدیہ گارمنٹس فیکٹری میںآتشزدگی کے مقدمے میں گرفتار تین سیکیورٹی گارڈز کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

پولیس نے ملزمان سے تحقیقات کرنے کیلیے6روزکاجسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا،جمعرات کو تھانہ سائٹ نے قتل بل سبب، قتل اور فیکٹری میں آگ لگانے کے الزام میں گرفتار فضل احمد ، ارشد محمود اور علی احمد کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کیلیے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی سہیل احمد مشودی کے روبرو پیش کیا تھا۔

اس موقع پر پولیس نے عدالت سے تفتیش کرنے کیلیے 14روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم فاضل عدالت نے 25 ستمبر تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا ہے ،ملزمان کے خلاف تھانہ سائٹ میں مقدمہ درج ہے، ڈکیتی کے الزام میں گرفتار ملزمان کو سیشن عدالت نے بری کردیا ،ملزمان نے اسلحے کے مقدمے میں اپنا جرم قبول کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ ڈیفنس نے ملزمان راشد اور آصف عرف اچھو کو ڈکیتی کے الزام میں گرفتار کرکے انکے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا تھا جمعرات کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی شاہد حسین چانڈیو نے دونوں ملزمان کو عدم ثبوت پر بری کردیا تھا جبکہ دونوں ملزمان نے اسلحہ ایکٹ کے الزام میں زیر سماعت مقدمات میں اپنا جرم قبول کرلیا تھا۔

جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی حاتم عزیز نے دونوں ملزمان کو ایک برس اور چار ماہ قید کی سزا سنائی،ملزمان کے خلاف تھانہ ڈیفنس میں مقدمہ درج تھا،جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی حاتم عزیز نے اسٹریٹ کرائم کے الزام میں ملوث ملزم معید نفیس کی جانب سے دائر درخواست ضمانت مسترد کردی،ملزم کے خلاف تھانہ ڈیفنس میں مدعی اقبال کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر عبدا لشکور کہلوڑو نے ہنگامہ آرائی ،توڑپھوڑ ، پولیس مقابلہ ، اقدام قتل ، ٹرک کو نذرآتش کرنے اور اسٹیل مل کی گاڑی پر فائرنگ کرنے کے الزامات میںگرفتار ملزم نعمان کو تین روزکے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنے دیگر مفرور ساتھیوں کے ہمراہ ہڑتال کو کامیاب بنانے کیلیے قائد آباد کے علاقے میں ہنگامہ آرائی کی اور ٹرک کو نذرآتش کردیا تھا اورپولیس نے