توہین آمیز فلم کے خلاف احتجاج جاری نوابشاہ میں ہڑتال

مختلف تنظیموں کی ریلیاں،فلم ڈائریکٹر اور امریکا کیخلاف نعرے، نقاب پوشوں کی ہوائی فائرنگ


Numainda Express September 21, 2012
مختلف تنظیموں کی ریلیاں،فلم ڈائریکٹر اور امریکا کیخلاف نعرے، نقاب پوشوں کی ہوائی فائرنگ۔ فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس

گستاخانہ فلم کے خلاف حیدرآباد میں ساتویں روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا ۔

مذہبی وسماجی تنظیموں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں جبکہ نوابشاہ میں شٹر ڈائون ہڑتال رہی۔ جمعیت طلباء اسلام نے گول بلڈنگ سے پریس کلب اور سماجی تنظیم نوجوانان اتحاد کمیٹی نے لطیف آباد یونٹ نمبر 11 سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی۔

جس میں شریک افراد ملعون پادری اور فلم ڈائریکٹر سمیت امریکا کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، مشتعل نوجوانوںنے فلم ڈائریکٹر کا پتلا اور امریکی پرچم بھی نذر آتش کیا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ عثمان دھامرہ، حافظ خالد دھامرہ، حافظ بختیار احمد، مولانا قاری امیر محمد قادری، عادل احمد و دیگر کا کہنا تھا کہ ملعون سام بیسائل نے گستاخانہ فلم بنا کر دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

جس کا اقوام متحدہ نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف اس فلم پر فی الفور پابندی عائد کروائے بلکہ ملعون ڈائریکٹر کو سزا دلوانے میں بھی کردار ادا کرے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ امریکی سفیرکو ملک بدر کیا جائے۔ گستا خانہ فلم کیخلاف انجمن تاجران اور مذہبی تنظیموں کی اپیل پرنوابشاہ میں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی، اہم تجارتی مراکز مونی بازار، کچہری بازار، لیاقت مارکیٹ، اسٹیشن روڈ، اور دیگر چھوٹے بڑے بازار بند رہے۔

انجمن تاجران کے صدر عبد القیوم قریشی، اسلم قریشی، حافظ حنیف و دیگر کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی جبکہ نقاب پوش افراد دن بھر جدید اسلحے سے ہوائی فائرنگ کرتے رہے۔ دریں اثناء ٹنڈوباگو میں بھی گستاخانہ فلم کیخلاف مذہبی جماعتوں نے ریلی نکالی۔