اپنے ادوار کو بھولنے والے
سانحہ ماڈل ٹاؤن نے سیاست میں ہلچل ہی نہیں مچائی بلکہ ملکی سیاست میں کشیدگی بھی بڑھا دی ہے
سانحہ ماڈل ٹاؤن نے سیاست میں ہلچل ہی نہیں مچائی بلکہ ملکی سیاست میں کشیدگی بھی بڑھا دی ہے جس کا ایسے وقت میں کوئی جواز نہیں تھا کیونکہ آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہی ہوا تھا اور ضرورت تھی کہ سب مل کر افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آتے مگر حکومت اور فوج کے سوا کوئی سیاسی جماعت اس موقع پر حکومت اور فوج کے ساتھ ایک پیج پر کھڑی نظر نہیں آئی اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ کو آپریشن ضرب عضب سے بھی زیادہ اہم بنا دیا گیا ہے اور سیاست چمکانے کے اس غیر ضروری موقع کو کوئی ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا۔
جنرل ضیا الحق کے دور کے بعد پیپلز پارٹی، مسلم لیگ کے تین گروپوں اور جنرل پرویز مشرف کو حکومتوں کا موقع ملا اور 1988ء کے بعد 26 سال میں ملکی سیاست نے جو رنگ دکھائے اور جو سیاسی منافقت عوام نے دیکھی اس کے بعد 2013ء کے عام انتخابات میں تیسری سیاسی قوت عمران خان کی قیادت میں سامنے آئی اور عوام کی بڑی تعداد خصوصاً ملک کے نوجوان گھروں سے یہ سمجھ کر نکلے کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے بعد تحریک انصاف کو آزمایا جائے مگر نتائج غیر متوقع طور پر عمران خان کے خواب کے برعکس نکلے اور مسلم لیگ (ن) وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔
سندھ میں پیپلز پارٹی دوبارہ اور کے پی کے میں پہلی بار تحریک انصاف اپنی حکومتیں بنا سکیں اور بلوچستان میں (ن) لیگ نے اپنی حکومت بنانے سے گریز کیا۔ (ن) لیگ چاہتی تو بلوچستان کیا، کے پی کے میں بھی اپنی حامی حکومتیں بنوا سکتی تھی۔
11 مئی کے انتخابی نتائج کو تحریک انصاف کے سوا تمام پارٹیوں نے تسلیم کیا مگر دھاندلیوں کے الزامات لگائے جاتے رہے۔ جون 2013ء میں ایک اچھی ابتدا ہوئی تھی مگر جون 2014ء کے ایک سال میں سیاسی کشیدگی انتہا پر پہنچ گئی ہے۔ تحریک انصاف مسلم لیگ (ق) کو سانحہ ماڈل ٹاؤن نے موقع فراہم کر دیا اور وہ پاکستان عوامی تحریک جس کا ملک میں ایک بھی اسمبلی ممبر نہیں ہے، کے ساتھ مل کر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن کے جلسے جلوسوں کے ذریعے حکومتیں تبدیل نہیں ہوا کرتیں۔ پیپلز پارٹی واضح کر چکی ہے کہ وہ نہ مڈٹرم الیکشن چاہتی ہے نہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو مدت مکمل ہونے سے قبل خاتمے کی حامی ہے اور چاہتی ہے کہ جمہوری سلسلہ برقرار رہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن جو سینیٹر منتخب ہونے سے قبل پی پی کی پالیسی کے خلاف چل رہے تھے اور انھوں نے عدلیہ بحالی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا مگر سینیٹر بن کر انھوں نے پی پی حکومت کے کردار پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی جس کی وجہ سے شریف برادران بھی احترام سے دیکھتے تھے مگر انتخابات میں اپنی اہلیہ کی شکست کے بعد اپنی پارٹی کی پالیسی کے برعکس (ن) لیگ کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر برس رہے ہیں اور انھیں پی پی حکومت کا دور یاد نہیں ہے اور انھوں نے اب یہاں تک کہہ دیا ہے کہ رانا ثناء اللہ کے بجائے شہباز شریف کو استعفیٰ دینا چاہیے اور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے بھائی کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پنجاب حکومت کے کردار سے وفاقی حکومت کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
انھیں شہباز شریف کی لاعلمی پر غصہ ہے مگر انھیں یہ غصہ امریکا کے ایبٹ آباد آپریشن پر نہیں آیا تھا جب صدر اور وزیر اعظم بھی ایبٹ آباد آپریشن میں لاعلم تھے مگر چوہدری اعتزاز نے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں 12 مئی کو سانحہ کراچی کے بعد اپنے سندھ کے وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ طلب کرنے کی اہمیت نہیں ہوئی تھی کیونکہ وزیر اعلیٰ کو فوجی صدر کی حمایت حاصل تھی۔
گزشتہ سال ڈیرہ اسماعیل خان جیل ٹوٹنے پر حکومت کے مخالفین نے وزیر اعلیٰ کے پی کے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا مگر عمران خان خاموش رہے اور اب وہ وزیر اعظم اور شہباز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اپنی حکومت میں آصف علی زرداری کو پنجاب کا دورہ نہیں کرنے دیا تھا اور لاہور آمد پر انھیں گرفتار کرا دیا تھا اور بعد میں وہی پرویز الٰہی صدر آصف علی زرداری کی حکومت میں غیر قانونی ڈپٹی وزیر اعظم کا عہدہ مشروط طور پر مانگ کر ڈپٹی وزیر اعظم بنے رہے۔
پاکستان میں یہ اصول رہا ہے کہ اپوزیشن میں رہ کر بڑے بڑے دعوے کرنے والوں کو اقتدار میں آ کر اپنے وعدے بھول جاتے ہیں جیسے مسلم لیگ (ن) کے ذمے داروں کا کہنا ہے کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ بجلی کا بحران اس قدر سنگین ہو گا۔
اپوزیشن میں اپنی سیاست چمکانے کے لیے حکومت پر غیر ضروری تنقید، حکومت کو ناکام قرار دے کر خود عوام کو سنہری خواب دکھانا، عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کرنا سیاستدانوں کا اصول بن چکا ہے۔ میاں نواز شریف نے سابق کرپٹ سیاستدانوں اور حکمرانوں سے حساب لینے کا جو اعلان کیا تھا وہ اب بھول چکے ہیں اور پی ٹی آئی کے باعث سابق صدر کو ساتھ لینے پر مجبور ہیں۔ شہباز شریف نے لوڈ شیڈنگ ختم نہ کرنے پر اپنا نام بدلنے کا اعلان کیا تھا مگر اب وہ خاموش ہیں۔ اپنے دور میں کچھ نہ کر سکنے والے شیخ رشید احمد نے ڈالر 98 روپے کا ہو جانے پر قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا مگر وہ اپنا اعلان بھول چکے ہیں۔
عمران خان نے 3 ماہ میں بلدیاتی انتخابات کے پی کے میں کرانے کا اعلان کیا تھا مگر ایک سال بعد بھی انھیں اپنا وعدہ یاد نہیں۔ وزارتیں ملنے کے بعد محکمے ملتے ہی ان کی حکومت پر تنقید کم ہو گئی ہے۔ عمران خان نے پرویز الٰہی کی پنجاب حکومت کو کرپٹ اور چوروں کی حکومت قرار دیا تھا اور جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کی تھی مگر اب پی ٹی آئی اور (ق)لیگ قریب آ رہی ہیں۔
کبھی چوہدری شجاعت اور شیخ رشید نواز شریف کے بازو ہوا کرتے تھے چوہدریوں نے گجرات میں نواز شریف کی گاڑی کندھوں پر اٹھوائی تھی آج وہ نواز شریف کے سخت ترین مخالف ہیں۔
اپوزیشن میں رہ کر سرکاری جلسوں کو ناکام کہنا اور حکومت میں آ کر اپنے مخالفین کے بڑے جلسوں کو چھوٹا قرار دینا اب فیشن بن چکا ہے۔ غرض کہ ہر کوئی اپنے دور کو بھول جاتا ہے اور عوام کو بے وقوف سمجھ کر اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتا۔ ہر سیاستدان اپنے موقف کی تبدیلی پر کوئی شرم محسوس نہیں کرتا اور خود کو ہمیشہ درست اور اپنے مخالفین کو غلط سمجھتا ہے اور پھر مفاد کے لیے اپنے مخالفین سے مل جانے یا ملا لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا اور ضرورت اس کا قومی مفاد بن جاتی ہے۔