امرا کو سبسڈی دینا مذاق ہے حکومت غریبوں کو سستی اشیا فراہم کرے سپریم کورٹ

وفاقی و صوبائی سیکریٹریزخوراک پیر کوطلب،باتیں سن کر تھک چکے،پاسداری نہ ہوئی تونتائج بھی انھیں بتا دیے جائیں، جسٹس جواد


Numainda Express July 02, 2014
معاملے پر کمیٹی بنادی، پختونخوا حکومت، کمیٹیوں کا وقت نہیں، لوگ بھوکے مررہے ہیں،آپ سے تبدیلی کی امید پوری نہیں ہوئی، عدالت۔ فوٹو: فائل

QUETTA: سپریم کورٹ نے غریب اورکم مراعات یافتہ طبقے کو رعایتی نرخ پرآٹے اور اشیائے خورونوش کی فراہمی کیلیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو آخری مہلت دے دی۔

جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے تمام رپورٹس مسترد کرتے ہوئے سماعت پیرتک ملتوی کر دی اور حکم دیا کہ اس دوران تمام حکومتیں قابل عمل پروگرام بنا کراس کا اطلاق کریں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے بتایا کہ اشیائے خور و نوش پر عوا م کو 17ارب روپے سبسڈی دی جارہی ہے، جسٹس جواد نے کہا کہ 8 مہینے ہوگئے ابھی تک سستے آٹے کیلیے کوئی قابل عمل پروگرام نہیں بنایا جا سکا،کیا حکومتیں اپنی ذمے داریوں سے بری ہوگئی ہیں؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا زاہد یوسف نے بتایا کہ بجٹ میں مستحقین کے لیے5ارب کی سبسڈی دی گئی، اس مقصد کیلیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے،جسٹس جواد نے کہا عراق سے تریاق آئے گا توسانپ کا ڈسا ہوا مرچکا ہوگا، کمیٹیوں کا وقت نہیں، لوگ بھوکے مررہے ہیں، جس صوبے سے تبدیلی کی امید تھی وہ بھی کمیٹیوں میں لگا ہے، جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ آئی ڈی پیز ایک تھیلا آٹے کے لیے سارا دن قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اور باری نہیں آتی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق مرزا نے کہاکہ ان کی حکومت نے ایک ڈالر یومیہ سے کم آمدنی والے لوگوں کے لیے سبسڈی کا پروگرام بنایا ہے، جسٹس جواد نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کی غربت کو پاکستانی کرنسی میں دیکھنا چاہیے، ڈالر کی سوچ سے نکلیں گے توملک اور عوام کا بھلا کر سکیں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ حکمرانوں کو عوام کے حقیقی مسائل کا کوئی علم نہیں، اے سی کمروں میں بیٹھے افسران ملک کے حقائق سے بے خبر بین الاقوامی رپورٹس کو آگے پیچھے کرکے کاغذی پروگرام بنا دیتے ہیں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ان کے صوبے نے غربت کیس خاتمے کیلیے بل پیش کر دیا ہے، جسٹس جواد نے کہا کہ قانون بنانے اورگزٹ شائع کرنے سے بھوک ختم نہیں ہوگی، کاغذ کے پرزوں سے تھر کے عوام کی بھوک اور افلاس ختم نہیں ہوسکتی، اگر حکومت شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہے گی تو ہم اپنی آئینی ذمے داریوں سے چشم پوشی نہیں کریں گے۔ آن لائن کے مطابق عدالت نے 7جولائی کو وفاقی اور صوبائی سیکریٹریز خوراک کو ذاتی طور پر طلب کر لیا، جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ امرا اور مراعات یافتہ طبقے کو بھی سبسڈی میں شامل کرکے غریبوں کیساتھ مذاق کیا جارہا ہے،کے پی کے میں تبدیلی کی امید تھی وہ بھی پوری نہیں ہورہی،عدالت نے اپنے حکمنامے میں کہا کہ سیکریٹری خوراک اپنی تجاویز کیساتھ پیش ہوں جن میںعملی طریقے بتائے گئے ہوں جس سے عام لوگوں تک آٹا پہنچ سکے۔