اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس پاک ایران سرحد پر تجارتی راستے کھولنے کے لیے اقدامات کا حکم

سیکریٹری خزانہ کو بارٹر ٹریڈ کیلیے اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلانے کی ہدایت، وزارت تجارت و ٹی سی پی ایرانی حکام کی۔۔۔


Khususi Reporter July 06, 2014
پاک ایران تجارت اور اشیا کے تبادلے کے لیے اعتماد کی بحالی ضروری ہے، مشترکہ کمیشن کے اجلاس سے قبل تجارت میںحائل رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی، وفاقی وزیر خزانہ ۔ فوٹو : این این آئی

وفاقی وزیر خزانہ سینٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ایران پر عائد کردہ پابندیوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایران اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت اور اشیا کے تبادلے کے لیے باہمی اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔

پاک ایران مشترکہ تجارتی کمیشن کے اجلاس سے قبل باہمی تجارت میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پاک ایران تجارت کے فروغ کے متعلق بین الوزارتی اجلاس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں اقوام متحدہ کے دائرہ کار کے تحت ایران سے تجارت پر غور کیا گیا، اجلاس میں وفاقی سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اشرف وتھرا، سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری، سیکریٹری کامرس شہزاد ارباب، وزارت خزانہ کے مشیر رانا اسد امین کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورہ ایران کے دوران دونوں ممالک کے حکام کی طرف سے اس اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ اقوم متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دونوں ممالک دو طرفہ بارٹر ٹریڈ اور اشیا کے تبادلے کے میکنزم کو فروغ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو بارٹر ٹریڈ اوراشیا کے تبادلے کے میکنزم کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مل کر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک ہمسایہ ملک ہونے کے زیادہ سے زیادہ فائدے اٹھا سکیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاک ایران مشترکہ اکنامک کے کمیشن کے رواں سہ ماہی میں ہونے والے اجلاس سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان بارٹر ٹریڈ اور اشیاکے تبادلے کے میکنزم کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنی چاہیئں۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں 50 نکاتی ایجنٖڈے کا جائزہ لیا جائے گا اور گزشتہ اجلاس کے باقی رہ جانے والے ایجنڈا آئٹمز پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ یورپی یونین کے ایران کے ساتھ مذاکرات بھی اہم اور سیٹلمنٹ کے مراحل میں ہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پاک ایران تجارت سے متعلقہ ایشوز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اور اپروچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وفاقی سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ پاک ایران بارٹر ٹریڈ کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس جلد بلایا جائے اور بارٹر ٹریڈ سمیت دونوں ممالک کے درمیان بارڈر کراسنگ کھولنے کے حوالے سے پیشرفت کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ تجارت کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ مغربی ممالک اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کے دورہ ایران کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اجلاس میں یہ بھی طے ہوا کہ وزارت تجارت اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان ایرانی حکام کے ساتھ باہمی مشاورت سے ان اشیا کی فہرست مرتب کریں گے جو پاکستان سے ایران کو بھجوائی جاسکتی ہیں اور اس حوالے سے رپورٹ تیار کرکے رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں منعقد ہونے والے اجلاس میں پیش کی جائے۔

مقبول خبریں