سانحہ بلدیہ تحقیقات کیلیے غیر ملکی ماہرین کی مدد لینے کا فیصلہ

فارنسک ماہرین سمیت افسران فیکٹری میں آگ لگنے کی وجوہات نہیں بتاسکے.


Staff Reporter September 23, 2012
غیرملکی ماہرین کے اخراجات برداشت کرنے کیلیے تیار ہیں، وکیل فیکٹری مالکان، ٹریبونل نے پیرکو فیکٹری مالکان کو طلب کرلیا ، تفتیشی افسر کی معطلی سے متعلق وضاحت طلب . فوٹو فائل

KARACHI: 250سے زائد انسانوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے آگ کی وجوہات تا حال معلوم نہیں ہوسکیں۔

فارنسک ماہرین سمیت سرکاری اداروں کے افسران گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگنے کی وجوہات نہیں بتاسکے،اس لیے سانحہ بلدیہ کی تحقیقات کرنے والے ٹریبونل نے تحقیقاتی اداروںکی کارکردگی کو مایوس کن قراردیتے ہوئے غیرملکی ماہرین بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹریبونل نے فیکٹری کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو ناقص اور شواہد کیلیے ناکافی قراردیا ہے،جسٹس زاہد قربان علوی نے ہفتہ کو سرکاری تعطیل کے باوجود تحقیقاتی عمل جاری رکھا، تاہم ہفتہ کو صرف ایک گواہ ایڈیشنل ڈائریکٹر سول ڈیفنس غلام اکبر بروڑو ٹریبونل میں پیش ہوئے ،ٹریبونل نے (کل) پیرکو فیکٹری مالکان کو طلب کرلیا ہے۔

فیکٹری مالکان کے وکیل نے تحقیقاتی اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ،ملزمان عبدالعزیز بھائیلہ،ارشدبھائیلہ اور شاہد بھائیلہ کے وکیل عامرمنصوب قریشی ایڈوکیٹ نے ٹریبونل کو بتایا کہ ان کے موکل اسلام آباد میں ہیں اور پرواز نہ ملنے کے باعث وہ کراچی نہیں پہنچ سکے، مزید مہلت دی جائے۔

ٹریبونل کے سربراہ نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ اب تک پیش کی گئی رپورٹس اور اداروں کی تحقیقات کے باوجود آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی،ٹریبونل کا بنیادی مقصد آگ کی وجہ معلوم کرنا اور ذمے داران کا تعین کرنا ہے اس لیے فیکٹری مالکان کا بیان اہمیت کا حامل ہے انہیں جلد پیش کیا جائے۔

ملزمان کے وکیل نے ٹریبونل کو یقین دلایا کہ فیکٹری مالکان ٹریبونل کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے، عامر منصوب قریشی ایڈووکیٹ نے کہا کہ انہیں اور ان کے موکلوں کو تحقیقاتی اداروں پر بھروسہ نہیں رہا ، پولیس اور ایف آئی اے جیسے ادارے فیکٹری مالکان کو گھنٹوں بٹھاکر ایک جیسے سوالات کرتے رہتے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ فیکٹری مالکان کی خواہش ہے کہ ٹریبونل کے سربراہ کے ساتھ فیکٹری کا دورہ کریں تاکہ وہ مختلف پہلوئوں کی نشاند ہی کرسکیں ، ٹریبونل کو مطلوبہ دستاویزات بھی پیش کی جائیں گی ، جسٹس (ر) زاہد قربان علوی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ٹھیکیدار منصور کی گواہی اہم ہے کیوں کہ دو منزلوں کا انتظام اسی کے پاس ہوتا تھا ۔

مالکان کے وکیل نے یقین دلایا کہ منصور کو بھی گواہی کیلیے پیش کیا جائے گا ، عامرمنصوب کا کہنا تھا کہ فیکٹری تمام متعلقہ اداروں میں رجسٹرڈ تھی اور اس حوالے سے بھی شواہد پیش کیے جائیں گے،جسٹس( ر )زاہد قربان علوی نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ اب تک متعلقہ اداروں کی کارروائی اطمینان بخش نہیں، سرکاری افسران ٹریبونل میں دستاویزات جمع کرانے کا وعدہ کرکے چلے جاتے ہیں لیکن ذمے داری سے جمع نہیں کراتے جب تک انہیں مجبور نہ کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ آگ کی وجہ معلوم کرنا انتہائی ضروری ہے جس کیلیے غیر ملکی ماہرین کی مدد حاصل کرنے کیلیے سفارشات دیں گے ، اس موقع پر فیکٹری مالکان کے وکیل نے پیشکش کی کہ غیرملکی ماہرین کی آمد سے متعلق تمام اخراجات برداشت کرنے کیلیے تیار ہیں۔

اس موقع پر محکمہ شہری دفاع کے افسر غلام اکبر بروڑ سے ٹریبونل کی جانب سے فیکٹری سے سفید دھواں اٹھنے کی وجہ دریافت کی تو انھوں نے بتایا کہ وہ اس بارے میں نہیں جانتے اوران کے محکمے کا کوئی بھی افسر اس بارے میں نہیں بتاسکتا، انھوں نے ایک رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ شہری دفاع زون ویسٹ نے 2008سے2011تک 101 افراد کو آگ سے نمٹنے کی تربیت دی ۔

ان میں سے ریسکیو کی 14 افراد اور ابتدائی طبی امداد کی 87افرادکوتربیت دی گئی ہے۔