وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ فضائی سفر کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو بریفنگ دی ۔
شدید بارشوں، بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں سیلابی ریلوں نے پنجاب میں تباہی مچا دی ہے، درجنوں دیہات راستے، عمارات ڈوب گئی ہیں، لاہور سے سیالکوٹ کے لیے ٹرین سروس بند کردی گئی ہے، مزید پانچ اضلاع میں فوج طلب کر لی گئی۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے پاکستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے 6 لاکھ امریکی ڈالر کی ہنگامی امداد جاری کردی۔
جب بھی پاکستان میں مون سون کی بارشوں کا موسم آتا ہے تو بھارت ہمیشہ کی طرح اپنی منافقانہ دشمن سوچ کے تحت اوپر سے دوستی اور ہمدردی جتاتا ہوا نظر آتا ہے، اندر سے دشمن کی طرح موقع کی تلاش میں کوئی وار خالی نہیں جانے دیتا اور بارشوں کے اس موسم میں وہ اپنے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑ دیتا ہے جس سے دریاؤں میں پانی کی حدِ تناسب خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے جس سے سیلاب کی صورت میں تباہی پھیلتی ہے، شہری اور دیہی علاقے اس لیے متاثر ہوتے ہیں کہ ایک دریا کے ہیڈ میں پانی کے گزرنے کی گنجائش 4.5لاکھ کیوسک ہے اور اگر اس میں پانی کی حد 9لاکھ یا دس لاکھ کیوسک فٹ آجائے تو پھر اس ہیڈ و دریا کو محفوظ رکھنے کے لیے کم آبادی والے علاقوں میں دریاؤں اور بندوں پر شگاف ڈال دیا جاتا ہے تاکہ پانی کے اخراج اور خطرناک حدِ تناسب کو کم کیا جائے۔
اس شگاف سے اخراج شدہ پانی اور اُس کی زد میں آنے والے علاقوں، بستیوں اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے، یہی کچھ اس بار بھی ہوا ہے، گو مون سون موسم میں طوفانی بارشوں بھی ہوئی ہیں لیکن بھارت کے اپنے ڈیموں سے اچانک سیلابی ریلوں کی صورت میں پانی کے اخراج کی وجہ سے جو تباہی پاکستان میں آئی ہے، اس کی مثال شاید ہی دنیا کے کسی حصے میں دیکھنے کو نہ ملے۔ بھارت نے ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی پاداش میں لا تعداد ڈیم قانونی اور غیر قانونی بنا ڈالے، OICاور عالمی اداروں کی خاموشی پاکستان کے لیے خاموش پیغام ہے کہ اپنے وسائل بروئے کار لا کر اس’’ واٹر وار‘‘ کا سامنا کرنا ہوگا۔
پنجاب کے زرخیز میدان، جو برسوں سے اناج، سبزہ، ثقافت اور انسانی ہمدردی کی پہچان رہے ہیں، آج پانی کے ایک بے رحم بہاؤ کی گرفت میں ہیں۔ دریاؤں کی سرزمین اب ایک آفت کی زمین بنتی جا رہی ہے، جہاں قدرت سے بغاوت اور انسانی کوتاہی نے مل کر تباہی کا ایسا باب رقم کیا ہے جو محض وقتی حادثہ نہیں بلکہ ایک دیرپا انتباہ ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1960 کا سندھ طاس معاہدہ اسی نظم و ضبط کے لیے طے پایا تھا تاکہ دونوں ممالک قدرتی وسائل کو امن، ترقی، اور بقا کے لیے استعمال کریں، مگر جب بھارت نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کیا اور معلومات کی فراہمی بند کی، تو درحقیقت یہ صرف قانونی یا سفارتی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ انسانی بحران بن گیا۔ جب اطلاعات بروقت نہیں ملتیں، جب پانی اچانک کھولا جاتا ہے، اور جب ہزاروں لوگ خطرے میں پڑتے ہیں، تو اس کا تعلق صرف دو ممالک کے بیچ سیاسی تعلقات سے نہیں رہتا، بلکہ یہ ایک انسانی فریضے کی ناکامی بن جاتا ہے۔ بھارت کی یہ روش، چاہے کسی بھی سیکیورٹی واقعے کا ردعمل ہو، بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی ہے اور اس کے نتائج انسانی جانوں کی صورت میں ادا کیے جا رہے ہیں۔
بدقسمتی سے، ان حالات میں متاثرہ افراد کے لیے ریاستی امداد محدود ہوتی ہے۔ لاکھوں لوگ جنھیں اپنا سب کچھ چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں پناہ لینی پڑتی ہے، ان کے لیے صرف خیمے، خشک راشن، اور ابتدائی طبی امداد کافی نہیں۔ ان کا نقصان صرف مادی نہیں بلکہ نفسیاتی، معاشی اور سماجی بھی ہوتا ہے۔ بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں، خواتین بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم رہتی ہیں، اور کسان اپنی ساری فصلیں اور مویشی کھو کر قرضوں تلے دب جاتے ہیں۔
ان کی زندگی برسوں پیچھے چلی جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ روکا جا سکتا تھا؟ اگر دونوں ممالک میں مؤثر مواصلاتی نظام ہوتا، اگر بھارت پانی چھوڑنے سے پہلے بروقت اطلاع دیتا، اگر پاکستان میں قبل از وقت انخلا کے بہتر انتظامات ہوتے، اگر خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی لائحہ عمل ہوتا، تو شاید اتنی تباہی نہ آتی۔ بدقسمتی سے، برصغیر کا جغرافیہ مشترک ہے، مگر سوچیں بٹی ہوئی ہیں۔
یہ مسئلہ اب صرف آبی انتظام یا ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا نہیں رہا، یہ ایک مکمل قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک خاموش جنگ ہے، جو نہ صرف زمین کو متاثر کر رہی ہے بلکہ خارجہ پالیسی، معاشی ترقی، خوراک کی حفاظت، اور انسانی وقار کو بھی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ اس کا مقابلہ صرف گولی یا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے شفافیت، تحقیق، بین الاقوامی تعاون، اور طویل المدتی منصوبہ بندی درکار ہے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ کالاباغ ڈیم کا منصوبہ بھی تاحال کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا، مختلف سیاسی، لسانی، سماجی علاقائی اختلافات کی زد میں آکر یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔
درحقیقت بڑھتی ہوئی انسانی آبادی دنیا میں سارے مسائل کی جڑ ہے۔ انسان قدرتی ماحول میں تبدیلیاں لانے والے عناصر میں سرفہرست ہے اور وہ کرہ ارض کو اپنی ضروریات و خواہشات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے۔ جنگل کاٹے جاتے ہیں۔ کھیتی باڑی کے لیے سطح زمین ہموار کی جاتی ہے۔
شہر اور گاؤں بسائے جاتے ہیں۔ سڑکوں کے جال بچھتے ہیں۔ ضروریات زندگی کے حصول کی خاطر کارخانے لگائے جاتے ہیں۔ سفری سہولیات کے لیے مختلف قسم کی گاڑیاں اور جہاز استعمال ہوتے ہیں یعنی حضرت انسان ہما وقت کسی نہ کسی طرح سے نظام قدرت کے ساتھ نبرد آزما رہتا ہے یوں ان مذکورہ عوامل کی انجام دہی کے زیر اثر کرہ ارض کا درجہ حرارت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے۔ بطور ردعمل کاربن کے اخراج کی وجہ سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان میں سیلابوں کی وجہ سے پیش آنے والی موجودہ غیر معمولی اور تباہ کن صورتحال کافی حد تک ہماری اپنی نااہلیوں کی پیدا کردہ ہے جس میں ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں مجرمانہ کوتاہی، دریائی گزرگاہوں پر تعمیر شدہ ناجائز تجاوزات،ناقص حکمت عملی کے تحت پلوں کی تعمیر،آبی معاملات کے سلسلے میں انجینئر طبقے کی غفلت، دریاؤں سے متعلق مجوزہ قوانین کے ساتھ کھلواڑ، بے تحاشا کرپشن، احتیاطی تدابیر پر عمل نہ ہونا اور حکومتی سطح پر ہمارے سیاسی لیڈروں کی نااہلی اور ناعاقبت اندیشی شامل ہے۔
دراصل دریائی گزرگاہوں پر تجاوزات کی وجہ سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں پیدا ہونا سیلابی صورتحال کو جنم دیتا ہے۔ ہمارے ہاں دریاؤں کی حفاظت سے متعلق قوانین موجود ہوتے ہوئے اکثر دریاؤں کے کنارے اور بعض اوقات دریاؤں کے اندر بہاؤ والے علاقوں میں ہوٹل، رہائش گاہیں، جانوروں کے باڑے وغیرہ بنائے جاتے ہیں جس بنا پر رستہ تنگ ہونے سے پانی کی روانی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور دریاؤں میں سے گزرنے والے پانی کی گہرائی بڑھ جاتی ہے، یوں زیادہ مقدار میں اکٹھا ہونے سے سیلابی صورت اختیار کرتا ہوا یہ پانی ہوٹل، رہائش گاہیں اور دوسرے اسٹرکچر کو بہا لے جاتا ہے۔
دریاؤں کے اوپر ایسی تجاوزات زیادہ تر آزاد کشمیر، بلتستان اور صوبہ سرحد کے پہاڑی علاقوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں جس سے سیلابی صورتحال میں شدت آنے کے ساتھ مالی اور جانی نقصان ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے، غیر معمولی بارشوں کی صورت میں یہ رکاوٹیں سیلابی صورت حال میں شدت لانے کا باعث بنتی ہیں۔ پانی دریا کے دونوں اطراف موجود وسیع و عریض علاقے میں پھیلتے ہوئے اسے بری طرح متاثر کرتا ہے۔
سیلاب آنے کی صورت میں دریاؤں کی یہ گزر گاہیں پانی کو تقسیم کرتے ہوئے ان کے بہاؤ میں کمی لانے کا باعث بنتی ہیں، لیکن اگر ان پرانی گزرگاہوں پر کھیتی باڑی اور آبادکاری کی وجہ سے رکاوٹیں پیدا ہو جائیں تو پھر یہ بھی سیلاب کی شدت کو بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہوئے زیادہ تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر سیلابوں سے متعلق حفاظتی انتظامات کرتے ہوئے ان علاقوں میں آباد کاری اور کاشتکاری کو روکا جائے تاکہ سیلاب کے دنوں میں یہ پرانی دریائی گزرگاہیں سیلابی پانی کو تقسیم کرتے ہوئے اس کی شدت میں کمی لا کر علاقے کو محفوظ بنا سکیں۔ عام خیال ہے کہ پاکستان کے اکثر شہری علاقوں میں سیم نالوں کی ناقص صفائی اور کچھ کے بالکل بند ہوجانے کی وجہ سے سیلابوں نے بڑے علاقوں میں پھیل کر زیادہ تباہی مچائی ہے۔ اگر سیم نالوں کا نظام درست ہوتا تو سیلابی پانی کے اس طرح بڑے علاقے میں پھیلنے کا احتمال بہت کم تھا۔
خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار نہیں بلکہ بطور وسیلہ امن کے طور پر دیکھے۔ یہ وقت محض الزام تراشی کا نہیں بلکہ شفاف مذاکرات، ہنگامی ردعمل، اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا ہے۔ جس طرح یورپ نے مشترکہ دریاؤں پر تعاون کے ماڈل تیار کیے، ویسے ہی جنوبی ایشیا کو بھی اپنے وسائل کا اشتراک کرنا سیکھنا ہوگا، کیونکہ اگر قدرت نے ہمیں ایک جیسا موسم، ایک جیسا دریا، اور ایک جیسا درد دیا ہے، تو شفا بھی ہم سب کو مل کر ہی تلاش کرنی ہوگی۔