پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن انتظامیہ اور ایئرکرافٹ انجینئرز کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا جس کے باعث پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن جزوی طور پر متاثر ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی آئی اے ایئرکرافٹ انجنیئرز کی احتجاجی کال کے باعث طیارے کھڑے ہوگئے، پی آئی اے کی لاہور مسقط کی دو طرفہ پرواز پی کے 263 اور 264، کراچی سے فیصل آباد اور فیصل آباد سے کراچی کی دو طرفہ پرواز منسوخ ہوگئی۔
اسلام آباد اسکردو کی دو طرفہ پرواز پی کے 451 اور 452 بھی منسوخ کردی گئی، ذرائع پی آئی اے نے کہا کہ پی آئی اے ایئرکرافٹ انجنیئرز اور انتظامیہ میں تنازع سے متعدد پروازیں تاخیر اور منسوخ ہوئی ہیں۔
پی آئی اے کی کراچی دبئی کی پرواز پی کے 213 نو گھنٹے تاخیر کا شکار ہے جس کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، پرواز کو گزشتہ رات ایک 1 بجے روانہ ہونا تھا۔
پی آئی اے کی کراچی سے اسلام آباد کی صبح 7 بجے کی پرواز پی کے 300 تاحال روانہ نہیں ہوئی، کراچی سے لاہور کی صبح 8 بجے کی پرواز پی کے 302 تاخیر سے دوپہر 2 بجے روانہ ہوگی، اس کے علاوہ کراچی سے جدہ ملتان کی پروازیں بھی متاثر ہیں۔
صدر ایئر کرافٹ انجینئرز تنظیم سیپ عبداللہ جدون نے کہا کہ معاملے پر ڈیڈلاک برقرار ہے، پی آئی اے کے سی ای او کے رویے پر ایئرکرافٹ انجنیئرز ناراض ہیں، معاملہ جوں کا توں ہے، طیاروں کی مینٹیننس اور کلیرنس کا کام تاحال گزشتہ رات سے بند ہے، معاملات حل نہ ہونے تک ایئرکرافٹ انجنیئرز کام نہیں کرینگے۔
پی آئی اے کے سی ای او عامر حیات موجودہ صورتحال کے باعث کراچی پہنچے اور پی آئی اے ایئرکرافٹ انجنیئرز کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات دیے۔
ذرائع نے کہا کہ سی ای او پی آئی اے عامر حیات نے چیف ایچ آر افسر کو ایئرکرافٹ انجینئرز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی جب کہ پی آئی اے انتظامیہ نے نجی کمپنی کے ایئرکرافٹ انجنیئرز اور پی آئی اے چند جونیئر انجیننرز کی خدمات حاصل کرلیں ۔
پی آئی اے انتظامیہ کے ذرائع نے کہا کہ کسی صورت فلائٹ آپریشن معطل نہیں ہونے دینگے۔
پی آئی اے ایئرکرافٹ انجنیئرز کی تنظیم سیپ نے تنخواہوں اور الائونسز میں اضافے نہ ہونے پر گزشتہ رات اچانک کام بند کردیا تھا، پیر کی شب مذکورہ صورتحال کے سبب کئی بین الاقوامی پروازوں کی روانگی التواء کا شکار ہوئیں۔
سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئرز نے طیاروں کو اڑان کے لیے کلیرنس دینا روک دیا۔ سیپ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک پی آئی اے کے سی ای او اپنا رویہ درست نہیں کرتے وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام نہیں دیں گے۔
انجینئرز تنظیم کے مطابق یہ فیصلہ اجتماعی عمل اور یکجہتی کے اظہار کے طور پر کیا گیا ہے۔
سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز (سیپ) کے صدر عبداللہ خان جدون نے اپنے پیغام میں کہا کہ انجینئرنگ کا احترام دراصل قومی ادارے کے احترام کے مترادف ہے، ہم اس بات کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ انجینئرنگ مینجمنٹ کو بار بار دھوکا دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے زیرِ التوا مسائل کے حل تک تمام روزمرہ کے عمل معطل رہیں گے اور تمام ممبران کسی بھی میٹنگ میں شرکت نہ کریں۔
عبداللہ جدون کا کہنا تھا کہ یہ اجتماعی عمل اور یکجہتی کا لمحہ ہے، صورتحال ہماری متحد توجہ کا تقاضا کر رہی ہے، اور اب یا کبھی نہیں والی کیفیت ہے۔
صدر سیپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اپنی برادری کے ساتھ کھڑے رہیں اور اتحاد برقرار رکھیں، ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے سی ای او نے چیف ایچ آر افسر کو ہدایت جاری کی ہے کہ طیاروں کے آپریشن متاثر کرنے والے تمام انجینئرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ائیرکرافٹ انجینئرز کے احتجاج کی باعث قومی ایئرلائن کا بین الاقوامی آپریشن زیادہ متاثر ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ معاملے پر ڈیڈلاک برقرار ہے، پی آئی اے کے سی ای او کے رویے پر ایئرکرافٹ انجنیئرز ناراض ہیں، معاملہ جوں کا توں ہے۔ طیاروں کی مینٹیننس اور کلیرنس کا کام تاحال گزشتہ رات سے بند ہے، معاملات حل نہ ہونے تک ایئرکرافٹ انجنیئرز کام نہیں کرینگے۔
پی ائی اے انجینئرز کی جانب سے کام چھوڑنے کا معاملے پر ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ سوسائٹی آف ائیر کرافٹ انجنئیرز کا کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، اس تحریک کا بنیادی مقصد پی آئی اے کی نجکاری کے حتمی مراحل کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیفٹی کا بہانہ بنا کر ایک منصوبے کے تحت بیک وقت کام چھوڑنا ایک مذموم سازش ہے جس کا مقصد پی آئی اے کے مسافروں کو زحمت دینا اور انتظامیہ پر ناجائز دباؤ ڈالنا ہے، پی آئی اے میں لازمی سروسز ایکٹ نافذ ہے جس کے تحت ہڑتال یا کام چھوڑنا قانونی طور پر جرم ہے،تمام ایسے عناصر جو ایک سازش کے تحت ایسی کارروائیوں میں مشغول ہیں یا ان کی پشت پناہی کررہے ہیں اُن کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ متبادل انجینئرنگ خدمات دوسری ائیرلائنز سے حاصل کررہی اور جلد ہی تمام پروازیں روانہ کردی جائیں گی۔