کراچی؛ موسمِ سرما میں مریضوں کی اموات میں اضافہ

کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں مردہ حالت میں لائے جانے والے مریضوں کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے


دعا عباس January 02, 2026

طبی ماہرین کے مطابق سردیوں کے موسم میں کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں مردہ حالت میں لائے جانے والے مریضوں کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے جن میں اکثریت بزرگ شہریوں کی ہے۔

ابتدائی طبی تشخیص میں ان اموات کی ممکنہ وجہ دل کا دورہ اور فالج (اسٹروک) قرار دی جا رہی ہے جبکہ موسم کی تبدیلی، فضائی آلودگی اور وائرل انفیکشنز کے باعث ایمرجنسی میں سانس، سینے اور فلو کے مریضوں کی تعداد اور شدت دونوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

اس حوالے سے سول اسپتال کراچی کے ایمرجنسی انچارج ڈاکٹر عمران سرور نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ کراچی میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی وائرل انفیکشن کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نزلہ، زکام، کھانسی، سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کے انفیکشنز، نمونیا سمیت مختلف امراض کے مریض بڑی تعداد میں ایمرجنسی کا رخ کر رہے ہیں جبکہ سانس کی بیماریوں میں مبتلا پرانے مریض شدید خراب حالت میں لائے جا رہے ہیں۔

بعض مریضوں کی حالت نہایت تشویشناک ہوتی ہے، جنہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال ان کیسز کے بہاؤ میں واضح اضافہ ہوا ہے جس کی ایک بڑی وجہ عوام کی اپنی غیر سنجیدگی بھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے مریض بھی سامنے آ رہے ہیں جن کا فلو تو ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن دو دو ماہ تک کھانسی ختم نہیں ہوتی، جس سے کسی سنگین سانس کی بیماری کا خدشہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کی ہسٹری سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو انہوں نے دمے (ایستھما) کی ادویات کا مکمل کورس نہیں کیا یا اینٹی بائیوٹکس ادھوری چھوڑ دیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال یا ادھورا کورس کرنے سے اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے جو علاج کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سردیوں میں خون کی شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں، دل کی جانب خون کی گردش کم ہو جاتی ہے۔ سردیوں میں فالج اور دل کے دورے کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔ تیماردار اکثر ہسٹری دیتے ہیں کہ رات کو اماں یا بابا ٹھیک تھے اور صبح میں ان کی اچانک طبیعت بگڑنے کے بعد موت ہو گئی۔ یہ اچانک موت کرونری آرٹریز کی تنگی ہونے سے بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت اگر کسی کو کھانسی، نزلہ اور بلغم ہے تو خود کو دوسروں سے دور رکھیں۔ اس کے علاوہ گرم کپڑے پہنیں، قہوہ یا گرین ٹی پئیں، ورک پلیس پر بھی سماجی فاصلہ اختیار کریں۔

مقبول خبریں