یوکرین کی فوج نے روس کے زیر قبضہ شہر خیر سون میں ڈرون حملے کیے جس میں ایک کیف بچے سمیت چوبیس افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب یو کرینی فوج کی طرف سے بھی اکثر روسی فوج پر یہ الزام لگائے جاتے ہیں کہ وہ اس کئی سالہ جنگ میں مختلف یوکرینی شہروں میں حملے کر کے عام شہریوں کو نشانہ بناتی رہتی ہے۔
دنیا اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، مفاد، خوف اور عدم اعتماد نے عالمی نظام کو اس قدر الجھا دیا ہے کہ امن محض ایک نعرہ اور جنگ ایک مستقل حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ امید باندھی گئی تھی کہ دنیا نظریاتی تقسیم سے نکل کر تعاون اور مکالمے کی راہ اپنائے گی، مگر اکیسویں صدی کے پہلے ربع میں داخل ہوتے ہی یہ خوش فہمی دم توڑ چکی ہے۔
آج عالمی سیاست کا منظر نامہ دیکھیں تو ہر خطے میں کوئی نہ کوئی تنازع سلگ رہا ہے، کہیں یہ شعلہ بن چکا ہے اور کہیں راکھ کے نیچے دہک رہا ہے۔ ان تنازعات کی نوعیت مختلف ضرور ہے مگر ان کی جڑ ایک ہی ہے، یعنی طاقتور ریاستوں کے مفادات اور کمزور اقوام کی مجبوری۔
روس اور یوکرین کی جنگ اس حقیقت کی سب سے واضح مثال ہے۔ بظاہر یہ دو ملکوں کے درمیان علاقائی اور سلامتی کا تنازع دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ جنگ یورپ، امریکا اور روس کے وسیع تر جغرافیائی و اسٹرٹیجک مفادات کا میدان بن چکی ہے۔ یوکرین، جو کبھی مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل سمجھا جاتا تھا، آج اسی کشمکش میں پس کر رہ گیا ہے۔ یورپ اپنی سلامتی اور توانائی کے تحفظ کے لیے فکرمند ہے، امریکا نیٹو کی توسیع اور روس کے اثر کو محدود کرنے کے لیے سرگرم ہے، جب کہ روس اپنی سرحدوں کے قریب مغربی اتحاد کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان سب کے بیچ یوکرین کے عوام ہیں جو جان، مال اور مستقبل کی قربانی دے رہے ہیں۔ شہروں کے شہر کھنڈر بن چکے ہیں، معیشت تباہ ہو چکی ہے اور ایک پوری نسل عدم تحفظ کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عالمی طاقتوں کا مقصد یوکرین کا تحفظ ہے یا یہ ملک محض ایک مہرہ ہے جسے بڑی بساط پر قربان کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح اسرائیل کا غزہ جنگ بندی معاہدے کو توڑنا اور اب صومالی لینڈ کی حمایت اور وہاں غزہ کے فلسطینیوں کو بسانے کی خواہش کو امریکا کی آشیرآباد حاصل ہے، امریکا ایک بار پھر ایران کو دھمکا رہا ہے، یمن تنازعہ کے پیچھے بھی عالمی طاقتوں کے مفادات پوشیدہ ہیں۔ اسی تسلسل میں افغانستان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک اور امتحان ہے۔ دہائیوں کی جنگ کے بعد جب غیر ملکی افواج نے افغانستان سے انخلا کیا تو یہ امید کی جا رہی تھی کہ شاید یہ ملک سکون کا سانس لے سکے گا۔ مگر عملی طور پر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ افغانستان پر قابض حکومت پر یہ الزامات مسلسل لگ رہے ہیں کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیا اور دیگر خطوں کے لیے بھی خطرات بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان نے سب سے زیادہ اس آگ میں جل کر دیکھا ہے، جہاں دہشت گردی کے زخم ابھی بھرے بھی نہیں تھے کہ دوبارہ سر اٹھانے لگے ہیں۔ عالمی برادری کی خاموشی اور محدود ردعمل اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا واقعی دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشترکہ عالمی مقصد ہے یا یہ بھی مفادات کے تابع ایک انتخابی پالیسی ہے، اگر افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کا مرکز بنتا ہے تو اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں غزہ کی پٹی ایک اور ایسا زخم ہے جو مسلسل رس رہا ہے۔ اسرائیل کے مظالم اور فلسطینیوں کی بے بسی نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ غزہ کے باسی محاصرے، بمباری، بھوک اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی لاشیں عالمی میڈیا پر آتی ہیں، مگر عملی اقدامات بیانات سے آگے نہیں بڑھتے۔ اسرائیل کو حاصل غیر مشروط حمایت، خاص طور پر مغربی طاقتوں کی جانب سے، اس تنازع کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی ریاستیں دباؤ میں ہیں، کہیں داخلی عدم استحکام کا خوف ہے اور کہیں عالمی سیاست کے تقاضے آڑے آتے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ عالمی انصاف کے معیار کا پیمانہ بن چکا ہے۔ جب ایک قوم کو دہائیوں تک اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے رہیں تو پھر عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں سوالیہ نشان بن جاتی ہیں۔
اسی طرح مشرق وسطیٰ دہائیوں سے عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں تنازعات کی جڑیں مذہب، تاریخ، تیل اور عالمی طاقتوں کی مداخلت میں پیوست ہیں۔ فلسطین اور اسرائیل کا تنازع اس خطے کا سب سے پرانا اور تکلیف دہ مسئلہ ہے۔ فلسطینی عوام نسل در نسل ظلم، جبر اور قبضے کا سامنا کر رہے ہیں، مگر عالمی برادری کی جانب سے مؤثر اور منصفانہ کردار کا فقدان واضح ہے۔ اسرائیل کو حاصل عالمی حمایت، خصوصاً مغربی طاقتوں کی پشت پناہی، اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ یہاں انسانی حقوق سے زیادہ اسٹرٹیجک مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ غزہ کی پٹی میں ہونے والی تباہی، بچوں اور عورتوں کی ہلاکتیں اور بنیادی سہولیات کی عدم دستی عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا سوال ہے، مگر یہ سوال اکثر طاقت کے شور میں دب جاتا ہے۔
افریقہ کے کئی ممالک بھی عالمی سیاست کی اس شطرنج میں پس رہے ہیں۔ لیبیا، سوڈان، کانگو اور دیگر ریاستیں داخلی تنازعات، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کا شکار ہیں۔ ان ممالک میں قدرتی وسائل کی فراوانی ہے، جو عالمی طاقتوں کے لیے کشش رکھتی ہے۔ نتیجتاً یہ خطے استحکام کے بجائے مسلسل عدم استحکام کی زد میں رہتے ہیں۔ اسلحے کی فروخت، معدنیات کی لوٹ مار اور سیاسی اثر و رسوخ کے کھیل میں عام انسان کی جان کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ مہاجرین کے قافلے، بھوک اور بیماری کی خبریں عالمی میڈیا میں تو آتی ہیں، مگر پالیسی سازوں کے فیصلوں میں ان کا عکس کم ہی نظر آتا ہے۔جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر ایک ایسا دیرینہ تنازع ہے جو نہ صرف دو ایٹمی طاقتوں کو آمنے سامنے رکھتا ہے بلکہ خطے کے ڈیڑھ ارب انسانوں کے مستقبل کو بھی یرغمال بنائے ہوئے ہے۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دیا جانا تھا، مگر دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ وعدہ وفا نہ ہو سکا۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ اقدامات، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہی ہیں۔ پاکستان اس مسئلے کو عالمی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے، مگر عالمی طاقتوں کی ترجیحات میں کشمیر ہمیشہ ثانوی رہا ہے۔ اس تنازع کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ معمولی سرحدی جھڑپ بھی دو ایٹمی ممالک کو جنگ کے دہانے تک لے جا سکتی ہے، اگر یہ مسئلہ منصفانہ طور پر حل ہو جائے تو نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم ہو سکتی ہے بلکہ پورا خطہ ترقی، تجارت اور تعاون کی نئی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔
پاکستان، ایران، وسطی ایشیائی ریاستیں اور حتیٰ کہ یورپ بھی اس عدم استحکام کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی طاقتوں کا رویہ غیر واضح اور اکثر مفاد پرستانہ نظر آتا ہے، جہاں ذمے داری سے زیادہ تھکن اور لاتعلقی جھلکتی ہے۔
عالمی طاقتوں کے کردار پر اگر مجموعی نظر ڈالی جائے تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ موجودہ عالمی نظام انصاف کے بجائے طاقت کے اصول پر قائم ہے۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی امن کے ضامن بننے کے لیے وجود میں آئے تھے، آج خود سوالات کی زد میں ہیں۔ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے چند ممالک پوری دنیا کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں کمزور اقوام کے مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی نظام کی ساکھ کو مجروح کر رہی ہے اور دنیا کو ایک بار پھر طاقت کی سیاست کی طرف دھکیل رہی ہے۔
اگر دنیا نے موجودہ روش نہ بدلی تو تنازعات کی یہ آگ مزید پھیلے گی اور اس کی لپیٹ میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ آج جو جنگیں دور دکھائی دیتی ہیں، کل وہ سرحدوں کے پار آ سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری محض بیانات سے آگے بڑھے اور عملی اقدامات کرے۔ انصاف پر مبنی حل، مکالمے کی حوصلہ افزائی اور طاقت کے بجائے قانون کی بالادستی ہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو ایک پائیدار امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہی وہ جواب ہے جس کی تلاش آج پوری انسانیت کو ہے، اور اگر یہ جواب نہ ملا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔