’’ وفاق صوبوں کو مزید اختیارات دے، معاشی بحران سے نکلنے کے لیے سیاسی بحران کا خاتمہ ضروری ہے۔ یہ کام صدر زرداری کرسکتے ہیں۔ بے نظیر بھٹوکا آخری پیغام مفاہمت کا تھا۔ مفاہمت کی کامیابی کے لیے سیاسی انتہا پسندی کو چھوڑنا ہوگا۔ مئی میں ہونے والی شکست کو بھارت قبول نہیں کررہا ہے۔ ‘‘پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ کی 18ویں برسی پر اپنے صدارتی خطاب میں یہ بیانیہ اختیارکیا۔
ان کے والد، پیپلز پارٹی کے سابق چیئر پرسن اور ملک کے صدر آصف علی زرداری نے رتوڈیرو میں ہونے والے اس جلسے میں کہا کہ پاکستان سے شکست کے بعد مودی فیلڈ مارشل کا نام سنتے ہی چھپ جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے فوج کا ایسا چیف بنایا جس نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ۔ پیپلز پارٹی کی تاریخ میں پہلے دو دن اہم ہوتے ہیں۔
ایک 14 اپریل کا دن جب پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹوکے عدالتی قتل والے دن گڑھی خدا بخش میں ایک بڑا جلسہ ہوتا تھا، جس میں پارٹی کی قیادت پالیسی بیان جاری کرتی تھی۔ 5 جنوری کو ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر ایک بڑا جلسہ منعقد ہوتا تھا مگر پیپلز پارٹی کی سابقہ چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں شہادت کے بعد ہر سال بے نظیر بھٹو کی شہادت کا دن ایک اہم ایونٹ بن گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی اساسی تقریر میں صوبوں کو زیادہ اختیارات دینے کا مطالبہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب بعض سیاسی جماعتیں،کچھ وزراء اور ایک میڈیا ہاؤس کے بانی ملک میں مزید صوبوں کے قیام کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض تو اپنے اس مطالبے میں یہ رویہ اختیار کررہے ہیں کہ اگر نئے صوبے نہ بنے تو ملک ہمیشہ پسماندہ رہے گا۔
پیپلز پارٹی نے اپنے قیام کے بعد صوبوں کو زیادہ حقوق دینے کے معاملے کو اپنے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا تھا۔ بقول ایک صحافی پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی قائم کرنے کے بہت عرصے بعد تک ون یونٹ کو توڑنے کا مطالبہ کرنے سے گریزکرتے تھے مگر 90کی دہائی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی دو بار برطرفی اور سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کی توثیق کے بعد پیپلز پارٹی میں یہ احساس پیدا ہوتا گیا کہ پارلیمنٹ کی انتظامیہ پر مکمل بالادستی ہونی چاہیے اور صوبوں کو زیادہ سے زیادہ بااختیارکرنا چاہیے۔ یہی وجہ تھی کہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان 2006میں لندن میں ہونے والے میثاقِ جمہوریت کی تیاری کے وقت دونوں رہنماؤں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ صوبوں کو زیادہ اختیار دینے سے ترقی کا عمل بہتر ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ جب 2008 میں بے نظیر بھٹوکی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم منتخب ہوئے اور پھر تمام سیاسی جماعتوں کے پرویز مشرف کے مواخذے کی تجویز پر اتفاق ہونے کے نتیجے میں پرویز مشرف صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے تو آصف زرداری صدر منتخب ہوئے اور تمام تر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن آئین میں کی گئی 18ویں ترمیم پر متفق ہوئے۔ اس ترمیم میں صوبوں کو زیادہ اختیارات دینے کا قانون منظور ہوا اور قومی مالیاتی ایوارڈ (N.F.C) کی تشکیل نو ہوئی اور قومی مالیاتی ایوارڈ کا نیا فارمولہ منظور ہوا۔ اس فارمولہ کے تحت صوبوں کی آمدنی میں کئی سو گنا اضافہ ہوا۔ وفاق کے تحت کئی وزارتیں ختم کر کے صوبوں کو منتقل کرنے پر اتفاق کا فیصلہ ہوا۔
ان اہم وزارتوں میں تعلیم، صحت، آبادی کی منصوبہ بندی،کلچر اور آثارِ قدیمہ جیسی وزارتیں شامل تھیں مگر پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل بعض وزراء نے تعلیم کی وزارت کو صوبوں کو منتقل کرنے کی مخالفت کی۔ مخالفت کرنے والوں میں اس وقت کے وزیر تعلیم بھی شامل تھے، لہٰذا یہ وزارتیں مکمل طور پر صوبوں کو منتقل نہیں ہوئیں۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ نئے عنوان کے ساتھ یہ وزارتیں وفاق میں قائم ہوگئیں۔ اعلیٰ تعلیم کا معاملہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (H.E.C) سے منسلک رہا، اگرچہ صوبوں کو نئی یونیورسٹیوں کے چارٹر دینے کا اختیار مل گیا مگر سرکاری یونیورسٹیوں کی فنڈنگ ایچ ای سی کے پاس رہی۔ ایچ ای سی کی تشکیلِ نو نہیں ہوئی۔ چاروں صوبوں کو ایچ ای سی کے مرکزی بورڈ میں برابر نمایندگی نہیں مل سکی۔
اگرچہ سندھ اور پنجاب نے اپنے اپنے ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم کیے مگر وفاق کے کمیشن اور صوبوں کے کمیشن کی یکساں پالیسیوں کے لیے کوئی قانونی طریقہ کار طے نہیں کیا گیا۔ کے پی اور بلوچستان کی حکومتوں نے اپنے کمیشن قائم نہیں کیے۔ ان صوبوں میں اعلیٰ تعلیم کی وزارت پرکام چلانے کا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ اس ترمیم کے تحت صوبوں کو تعلیمی اداروں کے لیے نصاب بنانے کا اختیار مل گیا۔ صوبوں نے نصاب کو جدید بنانے پر خاصا کام کیا مگر تحریک انصاف کی حکومت نے یکساں نصاب بنانے کا نعرہ لگایا۔ اس نعرہ کا مقصد ہی یہ تھا کہ نصاب کا معاملہ پھر وفاق کے پاس چلا جائے۔
مسلم لیگ ن کے بعض رہنما نصاب کا معاملہ وفاق کو منتقل کرنے کے لیے مسلسل بیانات دے رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئین میں 2026 میں ہونے والی ترمیم میں نصاب کو وفاق کے سپرد کرنے کی شق بھی شامل ہوگئی۔ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں اس بارے میں کوئی رائے نہیں دی۔ اسی طرح 18ویں ترمیم کے تحت صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوا مگر لاہور کا شیخ زید بن سلطان اسپتال وفاق کی تحویل میں رہا، البتہ کراچی کے تین بڑے اسپتال امراض قلب کا قومی اسپتال (N.I.C.V.D)، بچوں کا اسپتال اور جناح اسپتال حکومت سندھ کے حوالے کیا گیا مگر وفاقی حکومت نے ان اسپتالوں کو صوبے کے حوالے کرنے کے لیے قانون سازی نہیں کی جس کی بناء پر قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔
سپریم کورٹ نے ان اسپتالوں کو حکومت سندھ کے حوالے کرنے کے انتظامی حکم کو غیر آئینی قرار دیا تھا مگر تحریک انصاف کی حکومت نے ان اسپتالوں کو واپس لینے سے معذرت کر لی۔ اسی طرح ادویات کی رجسٹریشن اور ادویات کی قیمتوں کی اتھارٹی وفاقی وزارت صحت کی نگرانی میں ہی رہی۔ کلچر اور آثارِ قدیمہ کے محکمے صوبوں کو منتقل ہونے تھے تو کراچی کا نیشنل میوزیم صوبے کی تحویل میں دے دیا گیا مگر بعد میں پھر یہ وفاق کے قبضہ میں چلا گیا۔ مگر جب صوبوں کو اختیارات منتقل ہونے کے بارے میں بحث و مباحثہ جاری تھا تو شہروں کی ترقیات کے ماہرین کی یہ رائے تھی کہ یہ حقیقت ہے کہ وفاق سے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنا ضروری ہے مگر اس کے ساتھ یہ اختیارات شہروں تک منتقل ہونے چاہئیں۔
اس مقصد کے لیے نچلی سطح تک کے اختیارات کے بلدیاتی ادارے قائم ہونے چاہئیں اور آئین کے تحت بلدیاتی اداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ صوبوں میں بھی مالیاتی کمیشن قائم ہونے چاہئیں مگر ملک میں برسر اقتدار آنے والے حکمران بلدیاتی نظام کی اہمیت کو حقیقی طور پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں، یہی وجہ ہے کہ تین صوبوں بلوچستان، پنجاب اور کے پی میں نچلی سطح کے بلدیاتی ادارے عرصہ دراز سے قائم ہی نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ نے بلدیاتی اداروں کے قیام، ان کے وقت پر انتخابات اور ان بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کے مقدمات میں گہری دلچسپی لی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختون خوا میں ایک اچھا بلدیاتی قانون نافذ کیا تھا۔ اس قانون کے تحت میئرکا انتخاب براہِ راست ہونا تھا مگراس قانون پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ سپریم کورٹ کے انتباہ پر پنجاب کی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے کئی دفعہ بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا تھا مگر یہ انتخابات ملتوی ہوئے، یہی صورتحال بلوچستان میں بھی ہے۔
سندھ میں ایک کمزور بلدیاتی نظام قائم ہے۔ حکومت سندھ نے کچھ اختیارات میئرکو منتقل کیے اور میئر نے یونین کونسل اور ٹاؤنزکوکچھ گرانٹ دے کر انھیں فعال کیا ہے، مگر جب تک باقاعدہ قانون سازی کے تحت بلدیہ کراچی کی پورے کراچی پر عمل داری قائم نہیں ہوگی اور کنٹونمنٹ ایریاز سمیت تمام علاقے بلدیہ کی حدود میں نہیں آتے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کا معاملہ نامکمل ایجنڈا رہے گا۔ بلاول صاحب نے اپنی اس تقریر میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے والد کی قیادت میں قائم ہونے والے سیاسی نظام کے باوجود ملک سیاسی بحران کا شکار ہے۔
ان کا مفروضہ ہے کہ ان کے والد ملک کے صدر آصف زرداری اس بحران کا حل تلاش کرسکتے ہیں مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ تحریک انصاف وہی راستہ اختیارکرے جس کا مشورہ بلاول دے رہے ہیں، اگر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جنرل ضیاء الحق اور ان کے وزراء کے بیانات کا تجزیہ کیا جائے تو اس وقت کے وزراء بھی پیپلز پارٹی کی قیادت کو ایسے ہی مشورے دیتے تھے۔ ایک اور صحافی جنھوں نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کی پالیسیوں اور رہنماؤں کی تقریرکو یاد رکھا ہے، ان کا کہنا ہے کہ 80کی دہائی سے 2008 تک پیپلز پارٹی کی قیادت ملک کے بحران کا ذمے دار اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیتی تھی مگر اب دنیا تبدیل ہوچکی ہے۔ بلاول کو اس بات پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے حالات سازگار بنانے کی ذمے داری حکومت پر ہوتی ہے۔