قالین

بغداد کی بربادی کے مطلق حد درجہ کم تفصیل لکھی ہے۔اس لیے کہ اتنی تباہی کو لکھتے ہوئے قلم لرز جاتا ہے


راؤ منظر حیات January 03, 2026

جنوری1258 میں ہلاکو خان کی فوجیں بغداد کے نزدیک پہنچ چکی تھیں۔خلیفہ وقت المستعصم پوری شان وشوکت کے ساتھ دربار میں بیٹھا ہوا تھا۔ہلاکو خان کے ایلچی خلیفہ کے سامنے پیش ہوئے ۔ ہلاکوخان کا پیغام دیا کہ اگر آپ کسی بھی مزاحمت کے بغیر‘ بغداد ہمارے حوالے کر دیتے ہیں تو آپ کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔جان ومال کی حفاظت کی ضمانت دی جاتی ہے۔

عباسی خلیفہ نے اپنے وزیراعظم ابن علقمی کی طرف دیکھا ۔ وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جناب پوری اسلامی دنیا کے بادشاہ ہیں کسی بھی حملے کی صورت میں عالم اسلام کا ہر فرزند آپ کو بچانے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دے گا ۔ منگول سپہ سالار کو آپ کی اہمیت اور خاندانی پن کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے، بھلا منگولوں کی کیا جرأت کہ بغداد پر حملہ کرنے کا تصور بھی کر سکیں؟خلیفہ کو وزیراعظم کی لچھے دار تجویز پسند آئی اور ایلچیوں کو بے عزت کر کے دربار سے نکال باہر کیا۔

خلیفہ وقت کی حماقت سمجھئے یا وزیراعظم کی حد درجہ منفی تجویز گردانیے کہ آٹھ سو سالہ عباسی حکومت کا صرف ایک ہفتے میں نام و نشان مٹا دیا گیا ۔ دراصل وزیراعظم علقمی ‘ ہلاکو خان سے ساز باز کر چکا تھا، اس نے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے امان حاصل کر لی تھی۔نادان خلیفہ مکمل طور پر جنگی معاملات سے نابلد تھا ۔ اس بے وقوفی کا خمیازہ پورے شہر کو بھگتنا پڑا۔ لاکھوں مسلمان قتل کر دیے گئے ۔ ان گنت عورتوں کو منگولوں نے اپنے قبضہ میں کر لیا اور پورے شہر کو کھنڈر بنا دیا۔

ہلاکو خان کے سامنے جب خلیفہ کو پیش کیا گیا تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کے اور اس کے خاندان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔ منگول روایت کے مطابق ‘ مفتوح بادشاہوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا۔ شاہی خاندان کے افراد کو بھی تلوار سے نقصان نہیں پہنچایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ہر ظلم رواں رکھا جاتا تھا۔ ہولناک تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ خلیفہ وقت کی بیٹیوں اور بیٹوں کے ساتھ جوسلوک کیا گیا‘ وہ لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ صرف المستعصم کے انجام کی بابت گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ منگول قانون کے مطابق بادشاہ کو ایک بیش قیمت قالین میں اس طرح لپیٹا گیا کہ وہ سانس نہ لے سکے ۔

اوپر ایک بہت بڑی میز بچھائی گئی جس پر اعلیٰ ترین ضیافت کا سامان رکھا گیا۔ ہلاکوخان اور اس کے سردار رات کو میز پر کھانے کے لیے بیٹھ گئے ۔ شراب اور شباب کا دور ساتھ ساتھ چل رہا تھا، منگول سرداروں کے قہقہوں کی آواز دور تک سنی جا سکتی تھی مگر اسی میز کے نیچے خلیفہ وقت سانس نہ لینے کی وجہ سے آہستہ آہستہ موت کی تکلیف دہ سیڑھیوں پر خاموشی سے چڑھ رہا تھا ۔ ضیافت صبح تک جاری رہی۔ رات کے کسی پہر میں جب منگول فتح کا جشن منا رہے تھے ‘ عین اسی وقت خلیفہ وقت زندگی سے موت کے سفر کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔ کسی نے بھی پرواہ نہیںکی کہ کم از کم یہ دیکھ لے کہ مفتوح بادشاہ کا کیا حال ہے ۔ اگلے دن منگول سپاہیوں نے قالین کو سیدھا کیا تو المستعصم کی لاش اندر موجود تھی ۔

خلیفہ کا چہرہ مرنے کے بعد مکمل طور پر نیلا ہو چکا تھا۔ لاش کو اس کے محل کے دالان میں پھینک دیا گیا ۔ مختلف تاریخ دان لکھتے ہیںکہ بغداد میں اتنے لوگوں کا قتل ہوا کہ ان کے مردہ جسم کی بدبو سے ہر طرح کی بیماریاں پھیلنے لگیں ۔ ہلاکو خان نے اس بدبو کی وجہ سے اپنے لشکر کا قیام تھوڑا سا اگلے مقام پر کر دیا۔ بغداد کبھی بھی دوبارہ اس شان و شوکت کا نظارہ نہ بن سکا جو عباسی خلیفہ کے دور اقتدار میں اس کی وجہ شہرت تھی ۔ دارالحکمت سے لاکھوں قلمی نسخے نذر آتش کر کے دریا برد کر دیے گئے۔ پانی کا رنگ سیاہی سے کالا ہو گیا ۔ گلیوں میں لوگوں کا خون اتنا جم گیا کہ منگول سپاہی لاشوں پر قدم رکھتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے تھے ۔ مسلمانوں کے اقتدار کا درخشاں ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔

 بغداد کی بربادی کے مطلق حد درجہ کم تفصیل لکھی ہے۔اس لیے کہ اتنی تباہی کو لکھتے ہوئے قلم لرز جاتا ہے۔ عرض کرنے کا مقصد صرف ایک ہے کہ حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا ان کی پوری سلطنت کو بھگتنی پڑتی ہے۔ بادشاہ کو لغزش کی گنجائش کسی بھی نظام میں نہیں دی جاتی۔لہٰذا انسانی تہذیب کے ارتقاء کی بدولت مغرب میں جمہوریت کی داغ بیل ڈالی گئی تاکہ حکمرانوں کے رویے تبدیل کیے جاسکیں اور ان کا مقصد صرف اور صرف رعایا کی خوشحالی رہ جائے ۔

مغربی دنیا کی ترقی کی اصل وجہ وہ جمہوری نظام ہے جو کسی بھی حکمران کو غلطی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی بادشاہ یا طاقتور شخص کوئی حماقت کر بیٹھتا ہے تو اسے فوری طور پر مسند شاہی سے قانونی طور پر ہٹا دیا جاتا ہے۔ انسان کی حکمرانی کے طور طریقے ‘ دراصل وہ نسخہ کیمیا ہے جن کی بدولت مغربی ملک حیران کن ترقی کرچکے ہیں۔دنیا کا طاقتور ترین شخص یعنی امریکی صدر‘ اپنے آبائی شہر نیویارک میں بدترین سیاسی مخالف کے سامنے کوئی بند نہیں باندھ سکا۔ایک مسلمان نیو یارک کا میئر بن گیا یعنی امریکی حکومتی نظام میں یہ گنجائش نہیں ہے کہ وقت کا حکمران اپنے سیاسی مخالف کو منفی ہتھکنڈوں سے نقصان پہنچا سکے۔

مگر ترقی پذیر ممالک میں یہ معاملہ بالکل الٹ ہے ۔ سیاسی مخالفت ‘ ذاتیات کی آخری حد کو چھو جاتی ہے ۔ جھوٹی کردار کشی کی کوئی حد ہی متعین نہیں ہے۔ سیاسی مخالفین کو پابند سلاسل رکھنا معمول کی بات ہے اور انھیں قتل کرنا بھی بالکل حیران کن امر نہیں ہے۔ مسلمان دنیا کا المیہ ہی یہی ہے کہ یہاں پرامن انتقال اقتدار کا کوئی منظم طریقہ نظر نہیں آتا۔ بار بار عرض کر چکا ہوں کہ چودہ سو سال سے ‘ مسلمان سلاطین بادشاہ ‘ خلیفہ ‘ صدر اور وزرائے اعظم کسی بھی ایسے نکتے پر متفق نہیں ہو پائے جس سے مہذب انداز سے ایک حکمران کی جگہ دوسرا حکمران آ جائے۔ کہنے کو تو ہمارے جیسے ملکوں نے جمہوریت کا جعلی لبادہ اوڑھ لیا ہے مگر اس کے اصل جوہر سے شدید اجتناب کیا جاتا ہے۔ ہر وزیراعظم یا حکمران کسی بھی حالت میں تخت سے اترنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

مشرق وسطی میں تو خیر المناک بادشاہت ہے جوجبر کے ڈنڈے سے چل رہی ہے مگر وہ مسلمان ممالک جو قدرے جمہوری کہلاتے ہیں ‘ ان میں بھی شخصیت پرستی کا راج موجود ہے ۔ لیبیا‘مصر‘ عراق اور شام کی مثال سامنے رکھیئے ۔وہاں سال ہاسال کے لیے سرکاری اہلکار حکمران بنتے ہیں اور پھر مقتل میں جائے بغیر ان سے چھٹکارا حاصل نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں بھی جمہوری نظام دم توڑ چکا ہے۔ جس طرح کہ الیکشن یہاں کروانے کی رسم جڑ پکڑ چکی ہے‘ اس سے اجتماعی شرمندگی کے سوا کوئی عنصر سامنے نہیں آتا۔ کیا ایک شفاف الیکشن ہماری قوم کا حق نہیں ہے ؟کیا واقعی ہماری ناکامی کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے حکمران غلط طریقے سے تخت پر براجمان ہیں؟ اور انھیں اتارنے کا جمہوری طریقہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

طالب علم کی دانست میں پاکستان میں کوئی ایک بھی الیکشن مکمل طور پر مستند قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لوگ 1970کے الیکشن کی کافی مدح سرائی کرتے ہیں مگر شاید انھیں یہ علم نہیں کہ اس وقت کے خفیہ ادارے ‘ یحییٰ خان کو یقین دلا چکے تھے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکتی۔مگر عوام نے حق رائے دہی اس سنجیدہ شعور کے ساتھ استعمال کیا کہ شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو بھرپور سیاسی قوت کے ساتھ سامنے آ گئے ۔

ہٹ دھرمی کی انتہا دیکھیے کہ مقتدر طبقے نے اس الیکشن کے نتائج کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ پھر وہی ہوا جو بغداد میں ہوا تھا۔ تباہی ‘ ذلت اور خونریزی سے ہمارا ملک دولخت ہو گیا۔ مگر اس کی بنیاد کیا تھی۔ صرف ایک، کہ مقتدر طبقے نے بہت بڑی سیاسی غلطی کی۔ اقتدار زیادہ سیٹیں حاصل کرنے والے لیڈر کو دینے سے انکار کر دیا۔ اس کا خمیازہ بہت ہولناک تھا۔ جس طرح بغداد کی ہولناک تاریخ لکھنے سے قاصر ہوں، بالکل اسی طرح مشرقی پاکستان کی خونریزی بیان کرتے ہوئے بھی خاموش ہو جاتا ہوں۔

ِِخیر ہمارے ملک میں عوام کو اس قابل ہی نہیں سمجھا گیا کہ حکمران اپنی مرضی سے چن لیں ۔ مگر عوام نے وقت آنے پر ہمیشہ درست فیصلہ کیا ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ موجودہ حالات میں ہماری غیر سنجیدہ حکمت عملی سے ناقابل بیان نقصان ہو گا۔ بلکہ یہ کہنے دیجیے کہ نقصان ہو رہا ہے۔ پچھلے تین سال میں لاکھوں پاکستانی ملک سے ہجرت کر گئے ہیں۔

ان لوگوں کی اکثریت حد درجہ کامیاب پروفیشنلز کی ہے۔ ڈاکٹر‘ انجینئر‘ اکاؤنٹنٹ ‘ اساتذہ اور آئی ٹی ایکسپرٹ سرفہرست ہیں۔ قیامت یہ ہے کہ مقتدر طبقے کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ ایسے لگتا ہے جیسے پچیس کروڑ عوام کوقالین میں لپیٹ دیا گیا ہے اور وہ سسک سسک کے مر رہے ہیں۔ان کی آخری ہچکیاں ‘ حکمرانوں کے قہقہوں میں دب کر رہ گئی ہیں۔ اس قالین کے اوپر ہمارا مقتدر طبقہ ہلاکو خان اور اس کے سرداروں کی طر ح عظیم الشان دعوت کھانے میں مصروف ہے!

مقبول خبریں