کراچی:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 15 ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بازار حصص میں اسٹاک انویسٹرز کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پی ایس ایکس میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے 50 فیصد سے زائد منافع حاصل کیا، جس کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کارکردگی اور منافع کے لحاظ سے بھارت، سری لنکا، یو اے ای اور چائنا اسٹاک مارکیٹس سے کہیں بہتر رہی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ریکارڈ رفتار نے مارگن اسٹینلے کیپٹل انٹرنیشنل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جب کہ ہانگ کانگ، جاپان، سنگاپور اور ترکیہ کی اسٹاک مارکیٹس بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج 15 ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر براجمان ہے۔
ی ایس ایکس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پہلی بار نئے انویسٹرز کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے انویسٹرز کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار کی حد عبور کر گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں انویسٹرز کی مجموعی تعداد نے بھی پہلی بار 4 لاکھ 64 ہزار کا ہندسہ عبور کر لیا ہے، جو ملکی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔